Poetry
- آنکھ کیا غم میں ترے نم سی ہوئی جاتی ہےزندگی شعلہ تھی شبنم سی ہوئی جاتی ہےZafar Sambhali (b. 1944)
- اس کے غم میں حیات بھول گئےرونق کائنات بھول گئےZafar Sambhali (b. 1944)
- بھول جاؤں تجھے ایسی کوئی تدبیر نہیںاور پا لوں تجھے ایسی مری تقدیر نہیںZafar Sambhali (b. 1944)
- بے وفا سے گلا کیا نہ گیالطف غم بے مزہ کیا نہ گیاZafar Sambhali (b. 1944)
- جانے شب فراق میں کیا یاد آ گیادل یوں تڑپ اٹھا کہ خدا یاد آ گیاZafar Sambhali (b. 1944)
- جب مری سمت حسیں یادوں کے پتھر برسےخیر مقدم کو چلے اشک بھی چشم تر سےZafar Sambhali (b. 1944)
- غیر کا وہ ہو گیا اچھا ہوااپنے حق میں جو ہوا اچھا ہواZafar Sambhali (b. 1944)
- کتنا ظالم مری چاہت کا مقدر نکلامیں جسے آئنہ سمجھا تھا وہ پتھر نکلاZafar Sambhali (b. 1944)
- کسی کی یاد میں مثل چراغ رہ گزر تنہاگزاری ہے شب غم ہم نے اکثر جاگ کر تنہاZafar Sambhali (b. 1944)
- کیسے کہہ دوں مجھ کو تنہائی میں یاد آتا ہے کونراز کی یہ بات ہے اور راز بتلاتا ہے کونZafar Sambhali (b. 1944)
- گیسوؤں کے اسیر ہیں ہم بھیقصۂ دل پذیر ہیں ہم بھیZafar Sambhali (b. 1944)
- مری نظر میں تو لفظ الفت خزاں بھی ہے اور بہار بھی ہےیہ راس آئے تو پھول بھی ہے نہ راس آئے تو خار بھی ہےZafar Sambhali (b. 1944)
- نشہ ہے تیری نگاہوں میں شرابوں کی طرحلوگ سرشار ہیں بے خود ہیں خرابوں کی طرحZafar Sambhali (b. 1944)
- ہم نے دیکھے تھے کبھی خواب سہانے کیا کیایاد آتے ہیں وہی گزرے زمانے کیا کیاZafar Sambhali (b. 1944)
- ہمیں تو خوابوں کی وادیوں میں حیات کو ہے تمام کرناتمہاری یادوں میں صبح کرنا تمہاری یادوں میں شام کرناZafar Sambhali (b. 1944)
- اب کے برس پھاگن میں کسی سے ایسی کھیلی ہولی سکھیپریت کے پکے رنگ سے جس نے رنگ دی من کی چولی سکھیZafar Sambhali (b. 1944)
- جب مرے نام ترے پیار کا خط آتا ہےچند لمحوں کو غم ہجر بھی مٹ جاتا ہےZafar Sambhali (b. 1944)
- لو پھر افق پہ آیا نظر عید کا ہلالپھر یاد آیا مجھ کو کوئی پیکر جمالZafar Sambhali (b. 1944)