Poetry
- بیتے دنوں کی تو اگر تحریر لکھاپنے قلم سے وقت کی تقدیر لکھZafar Hashmi (b. 1945)
- پھول کا پیکر زمیںاور کبھی پتھر زمیںZafar Hashmi (b. 1945)
- خشک دریا میں اضطراب آئےسارے ساحل ہی زیر آب آئےZafar Hashmi (b. 1945)
- رہے دھوپ میں خشک شجر کی طرحپئے درد بھی راہ گزر کی طرحZafar Hashmi (b. 1945)
- سہمی ہوئی گلشن میں ہر اک آج کلی ہےشعلوں کی کبھی پیاس بھی شبنم سے بجھی ہےZafar Hashmi (b. 1945)
- گمان میں ہے یقین جیسےاگل دے سونا زمین جیسےZafar Hashmi (b. 1945)
- گھنے جنگلوں میں کرن رہ گئیہمارے بدن میں تھکن رہ گئیZafar Hashmi (b. 1945)
- میں بھی ہوں تنگ کب سے تم بھی ہو تنگ کب سےحالات کی سپہ سے جاری ہے جنگ کب سےZafar Hashmi (b. 1945)
- واقعہ میرے نہ تن اور سر کا ہےسامنا ہر روح کو خنجر کا ہےZafar Hashmi (b. 1945)
- وہ شب شکن سے نیا آفتاب نکلا ہےلہو کی شاخ پہ تنہا گلاب نکلا ہےZafar Hashmi (b. 1945)
- ہر رنج قبول کر رہا ہوںزخموں کو میں پھول کر رہا ہوںZafar Hashmi (b. 1945)