Poetry
- اب کہاں جائیں غم بھلانے کوچھوڑ کر تیرے آستانہ کوZabt Sitapuri
- اے دل تجھے کیا وقت کی پہچان نہیں ہےاب ان سے ملاقات کا امکان نہیں ہےZabt Sitapuri
- بہار اپنی نہ گل اپنے نہ صحن گلستاں اپنابنا لیں کیوں نہ ویرانے میں جا کر آشیاں اپناZabt Sitapuri
- دل اگر درد آشنا نہ ہوااس کا ہونا ہی کیا ہوا نہ ہواZabt Sitapuri
- راتیں وہ دل فریب بہاریں وہ خواب کیپیری میں یاد آئی ہیں باتیں شباب کیZabt Sitapuri
- فکر کعبہ کچھ ہے کچھ ہے شوق بت خانہ مجھےدل بہلنے کو ہے کافی بزم رندانہ مجھےZabt Sitapuri
- فکر کیا اس کی یہ دل اور جگر کیا ہوگاتیرے سودائی کو اندیشۂ سر کیا ہوگاZabt Sitapuri
- کعبہ نظر میں ہے نہ ہے بت خانہ آج کلرہتی ہے گرم محفل رندانہ آج کلZabt Sitapuri
- کعبے کا تمنائی ہے کوئی مشتاق کوئی بت خانے کاان عقل کے دیوانے سے جدا عالم ہے ترے دیوانے کاZabt Sitapuri
- کہا جو ان سے کہ اب بے قرار ہم بھی ہیںتو ہنس کے کہتے ہیں بے اختیار ہم بھی ہیںZabt Sitapuri
- کہیں نباہ کی صورت نہیں زمانے میںقفس میں چین نہ راحت ہے آشیانے میںZabt Sitapuri
- مفت میں کیوں لیں شب غم موت کے آنے کا نامحوصلے کا پست ہو جانا ہے مر جانے کا نامZabt Sitapuri
- میں راز غم عشق سے بیگانہ نہیں ہوںایسا ہوں پیالہ جو محبت سے ہے لبریزZabt Sitapuri
- نہ جانے وعدے کا کیوں اعتبار اب بھی ہےگزر گئی ہے شب اور انتظار اب بھی ہےZabt Sitapuri