Poetry
- آؤ ایک رات کہ پہن لوں تمہیںاپنے تن پر لباس کی مانندVarsha Gorchhia
- آؤ نہ کسی دنیمنا کنارےVarsha Gorchhia
- تمام خوابوں کی آنکھیںادھورے فسانے کے آخری گیت کوVarsha Gorchhia
- تیرے لمس کومیری انگلیاں نگل گئیVarsha Gorchhia
- جانتے ہو تممجھے چوڑیاں پسند ہیںVarsha Gorchhia
- خیال کچھ یوں بلکھتے ہیں سینہ میںجیسے گناہ پگھلتے ہوںVarsha Gorchhia
- سنکری سی اوس گلی میںدونوں طرف ہزاروں جذبات کیVarsha Gorchhia
- سوئیاں کھانے کامن کرتا ہےVarsha Gorchhia
- کس دھن میں رہتی ہو تمالجھے ہوئے بالوں کی گرہیںVarsha Gorchhia
- گنگا کی چھاتی پرسر رکھ کر نئیVarsha Gorchhia
- یاد رہےچاہتوں کا یہ شہرVarsha Gorchhia
- سنو نہکہیں سے کوئیVarsha Gorchhia
- باتوں کا مرتبان اچانک چھوٹ گیا ہے ہاتھوں سےباتوں کے نازک جسم اب لفظوں کی کرچوں سےVarsha Gorchhia
- تمہاری زباں سے گراایک شوخ لفظVarsha Gorchhia
- سکوں بھریکسی خاموش جھیل کے کنارےVarsha Gorchhia
- میں نظمیں نہیں کہتیمیں دعائیں لکھتی ہوںVarsha Gorchhia
- یہ بھی رات گزر رہی ہےکمرے کی بکھری چیزیں سمیٹتے ہوئےVarsha Gorchhia