Poetry
- اہل زر کے عتاب ہیں کیا کیامفلسوں پر عذاب ہیں کیا کیاVaqar Siddiqui (b. 1932)
- بہت حقیر ہیں ہم یہ گماں بدل ڈالواٹھو اور اٹھ کے یہ تفسیر جاں بدل ڈالوVaqar Siddiqui (b. 1932)
- بہت نیچی لگیں اونچائیاں بھیسمندر سے گئیں گہرائیاں بھیVaqar Siddiqui (b. 1932)
- تاریخ نویسی کی یہ طرز پرانی ہےشاہوں کا فسانہ ہے پریوں کی کہانی ہےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- جسے دیکھو درندہ سا لگے ہےیہ سارا شہر تو صحرا لگے ہےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- زندہ حقیقتوں کو چھپایا نہ جائے گاہر واقعہ فسانہ بنایا نہ جائے گاVaqar Siddiqui (b. 1932)
- کسی صدا کسی جرأت کسی نظر کے لئےیہ لمحہ فکر کا لمحہ ہے ہر بشر کے لئےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- کوئی نظر ہو عقیدہ بہت ضروری ہےعمل پہ اپنے بھروسا بہت ضروری ہےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- کیوں نہ اب دیکھ لیں ہم بے سر و ساماں ہو کرزندگی کیسے گزرتی ہے پریشاں ہو کرVaqar Siddiqui (b. 1932)
- وہ چاہتے ہیں کہ رستے میں شام ہو جائےمیں چاہتا ہوں کہ ظلمت تمام ہو جائےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- اب بھیغم کے صحراؤں میںVaqar Siddiqui (b. 1932)
- ایکتا میں طاقت ہےایکتا محبت ہےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- بم برساؤآگ لگاؤVaqar Siddiqui (b. 1932)
- ہم دیوانےدنیا بھر کےVaqar Siddiqui (b. 1932)