اہل زر کے عتاب ہیں کیا کیا

Vaqar Siddiqui (b. 1932)

اہل زر کے عتاب ہیں کیا کیا

مفلسوں پر عذاب ہیں کیا کیا

روٹی کپڑا مکان علم و ہنر

زندگی تیرے خواب ہیں کیا کیا

بھوک بیکاری جبر لاچاری

عہد نو کے عذاب ہیں کیا کیا

شہر در شہر کر چلیں تاراج

شہر یاروں کے خواب ہیں کیا کیا

زندگی یوں ہی خرچ کرتے رہے

کیا بتائیں حساب ہیں کیا کیا

جو نہیں جانتے ہنر کیا ہے

ان کو بخشے خطاب ہیں کیا کیا

ظرف اہل جنوں سے گھبرا کر

عقل کے پیچ و تاب ہیں کیا کیا

برق و باراں جنوں قفس صیاد

فصل گل کے عذاب ہیں کیا کیا

اک نئے انقلاب کی خاطر

دہر میں پیچ و تاب ہیں کیا کیا

ایک دنیا نئی کریں تخلیق

اپنی آنکھوں میں خواب ہیں کیا کیا