Poetry
- آ گیا یاد خدا آخر کاراٹھ گیا دست دعا آخر کارTahir Tilhari (b. 1936)
- باڑھ آئی گاؤں کو دریا بہا کر لے گیاایک پیاسا دوسرے پیاسے کو آ کر لے گیاTahir Tilhari (b. 1936)
- تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھسایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھTahir Tilhari (b. 1936)
- تیرے باعث مسئلہ حل ہو گیامیں ادھورا تھا مکمل ہو گیاTahir Tilhari (b. 1936)
- جو ہم کہیں وہی طرز بیان رکھتا ہےوہ اپنے منہ میں ہماری زبان رکھتا ہےTahir Tilhari (b. 1936)
- حیات و موت کی الجھن میں ڈالتا کیوں ہےیہ تہمتیں مرے اوپر اچھالتا کیوں ہےTahir Tilhari (b. 1936)
- خلش زخم تمنا کا مداوا بھی نہ تھامیں نے وہ چاہا جو تقدیر میں لکھا بھی نہ تھاTahir Tilhari (b. 1936)
- خوابوں کی چاندنی کا سراپا کہاں سے آئےجب جسم ہی نہیں ہے تو سایا کہاں سے آئےTahir Tilhari (b. 1936)
- دل بشر ہے عجب دو رخی سے وابستہکسی کے سائے سے نفرت کسی سے وابستہTahir Tilhari (b. 1936)
- ستم پر ستم سہہ رہی ہے زمیںمگر منہ سے کب بولتی ہے زمیںTahir Tilhari (b. 1936)
- سورج کی طرح اپنے ہی محور میں قید ہوںصدیوں سے روشنی کے سمندر میں قید ہوںTahir Tilhari (b. 1936)
- شمعوں کی طرح پگھل رہے ہیںہم غم کی چتا میں جل رہے ہیںTahir Tilhari (b. 1936)
- کوئی تو سوغات اس کے شہر کی گھر لے چلوکچھ نہیں تو جسم پر زخموں کی چادر لے چلوTahir Tilhari (b. 1936)
- کوئی دیکھے تو یہ انداز ستانے والامجھ سے غافل ہے مرے خواب میں آنے والاTahir Tilhari (b. 1936)
- میرا مقصود نظر لوح مقدر میں نہیںمیں وہ موتی ڈھونڈھتا ہوں جو سمندر میں نہیںTahir Tilhari (b. 1936)
- میں اک بہتا دریا ہوںلیکن کتنا پیاسا ہوںTahir Tilhari (b. 1936)
- ہوتا ہر قید سے آزاد تو اچھا ہوتاکاش میں پیڑ سے ٹوٹا ہوا پتا ہوتاTahir Tilhari (b. 1936)
- دوستوں میں کوئی خدا تو نہ تھاتم نے پھر کیوں بھلا دیا مجھ کوTahir Tilhari (b. 1936)