Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آ گیا یاد خدا آخر کاراٹھ گیا دست دعا آخر کارTahir Tilhari (b. 1936)
  2. باڑھ آئی گاؤں کو دریا بہا کر لے گیاایک پیاسا دوسرے پیاسے کو آ کر لے گیاTahir Tilhari (b. 1936)
  3. تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھسایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھTahir Tilhari (b. 1936)
  4. تیرے باعث مسئلہ حل ہو گیامیں ادھورا تھا مکمل ہو گیاTahir Tilhari (b. 1936)
  5. جو ہم کہیں وہی طرز بیان رکھتا ہےوہ اپنے منہ میں ہماری زبان رکھتا ہےTahir Tilhari (b. 1936)
  6. حیات و موت کی الجھن میں ڈالتا کیوں ہےیہ تہمتیں مرے اوپر اچھالتا کیوں ہےTahir Tilhari (b. 1936)
  7. خلش زخم تمنا کا مداوا بھی نہ تھامیں نے وہ چاہا جو تقدیر میں لکھا بھی نہ تھاTahir Tilhari (b. 1936)
  8. خوابوں کی چاندنی کا سراپا کہاں سے آئےجب جسم ہی نہیں ہے تو سایا کہاں سے آئےTahir Tilhari (b. 1936)
  9. دل بشر ہے عجب دو رخی سے وابستہکسی کے سائے سے نفرت کسی سے وابستہTahir Tilhari (b. 1936)
  10. ستم پر ستم سہہ رہی ہے زمیںمگر منہ سے کب بولتی ہے زمیںTahir Tilhari (b. 1936)
  11. سورج کی طرح اپنے ہی محور میں قید ہوںصدیوں سے روشنی کے سمندر میں قید ہوںTahir Tilhari (b. 1936)
  12. شمعوں کی طرح پگھل رہے ہیںہم غم کی چتا میں جل رہے ہیںTahir Tilhari (b. 1936)
  13. کوئی تو سوغات اس کے شہر کی گھر لے چلوکچھ نہیں تو جسم پر زخموں کی چادر لے چلوTahir Tilhari (b. 1936)
  14. کوئی دیکھے تو یہ انداز ستانے والامجھ سے غافل ہے مرے خواب میں آنے والاTahir Tilhari (b. 1936)
  15. میرا مقصود نظر لوح مقدر میں نہیںمیں وہ موتی ڈھونڈھتا ہوں جو سمندر میں نہیںTahir Tilhari (b. 1936)
  16. میں اک بہتا دریا ہوںلیکن کتنا پیاسا ہوںTahir Tilhari (b. 1936)
  17. ہوتا ہر قید سے آزاد تو اچھا ہوتاکاش میں پیڑ سے ٹوٹا ہوا پتا ہوتاTahir Tilhari (b. 1936)
  18. دوستوں میں کوئی خدا تو نہ تھاتم نے پھر کیوں بھلا دیا مجھ کوTahir Tilhari (b. 1936)