Poetry
- آنکھوں میں ہے کیسا پانی بند ہے کیوں آوازاپنے دل سے پوچھو جاناں میری چپ کا رازTahir Adeem (b. 1973)
- اسیر بحر و بر کوئی نہیں ہےجہاں میں مختصر کوئی نہیں ہےTahir Adeem (b. 1973)
- اقرار کا مطلب ہو کہ انکار کے معنیکوئی تو ہو سمجھے مری گفتار کے معنیTahir Adeem (b. 1973)
- اک پل جیتا ہے تو طاہرؔ اک پل مرتا رہتا ہےمیرا دل سینے کے اندر ماتم کرتا رہتا ہےTahir Adeem (b. 1973)
- بجھ رہی ہے آنکھ یہ جسم ہے جمود میںاے مکین شہر دل آ مری حدود میںTahir Adeem (b. 1973)
- بلا جواز نہیں ہے غرور آنکھوں میںبسا ہوا ہے کوئی تو ضرور آنکھوں میںTahir Adeem (b. 1973)
- تیری چاہت میں مر کے دیکھوں گاکام یہ بھی میں کر کے دیکھوں گاTahir Adeem (b. 1973)
- جو تری بندگی سے ملتا ہےلطف وہ کم کسی سے ملتا ہےTahir Adeem (b. 1973)
- چاندنی کا ہے بدن یا ہے بدن میں چاندنیجب اترتا ہے اترتی ہے چمن میں چاندنیTahir Adeem (b. 1973)
- روشنی کر دے سر بہ سر مولااس کی آنکھوں میں نور بھر مولاTahir Adeem (b. 1973)
- شباب موسم ہرے چمن میں اتارنا ہےکمال جتنا بھی ہے سخن میں اتارنا ہےTahir Adeem (b. 1973)
- کسی خاموش چہرے پر وہ اطمینان کا منظرجگر کو کاٹتا ہے اب بھی قبرستان کا منظرTahir Adeem (b. 1973)
- گر کے بستر پہ رو رہا ہوگاوہ بھی تکیہ بھگو رہا ہوگاTahir Adeem (b. 1973)
- مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہےرگ و پے میں فضائے کربلا ہے انتہا ہےTahir Adeem (b. 1973)
- مصیبت سر سے ٹلتی جا رہی ہےہماری عمر ڈھلتی جا رہی ہےTahir Adeem (b. 1973)
- موجودگی کا اس کی یہاں اعتراف کراے کعبۂ جہاں مرے دل کا طواف کرTahir Adeem (b. 1973)
- نہ دیواریں ہیں اور نہ در پراناابھی تک پھر بھی ہے یہ گھر پراناTahir Adeem (b. 1973)
- وہ درد وہ وفا وہ محبت تمام شدلے دل میں تیرے قرب کی حسرت تمام شدTahir Adeem (b. 1973)
- ہر ایک رستۂ پایاب سے نکلنا ہےسراب عمر کے ہر باب سے نکلنا ہےTahir Adeem (b. 1973)
- یہ مسکراتے تمام سائے ہوئے پرائے تو کیا کرو گےہوا نے جب بھی مرے بدن کے دیے بجھائے تو کیا کرو گےTahir Adeem (b. 1973)