مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہے

Tahir Adeem (b. 1973)

مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہے

رگ و پے میں فضائے کربلا ہے انتہا ہے

مرے حالات ہیں ناراض اس پہ کیا کروں میں

گریزاں آسمانوں سے دعا ہے انتہا ہے

غم و آلام ہیں یا حسرتیں ہیں زندگی میں

تمہارے بعد باقی کیا بچا ہے انتہا ہے

فقط تم ہی نہیں ناراض مجھ سے جان جاناں

مرے اندر کا انساں تک خفا ہے انتہا ہے

کہیں منظر اسالیب ہوس کے چار سو ہیں

کہیں پہ خون آلودہ فضا ہے انتہا ہے

خموشی توڑ دے اے خالق ارض و سما اب

تری مخلوق بن بیٹھی خدا ہے انتہا ہے

وہی تو زینت بام بقا ہے انتہا ہے