Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہےثابت ہے گل اور شبنم سے جو ہنستا ہے وہ روتا ہےسید محمد عبد الغفور شہباز
  2. بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگےبلبلہ آنکھوں سے خونابہ فشانی مانگےسید محمد عبد الغفور شہباز
  3. نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گیاگر جدائی میں جاں رہے گی تمہیں بتاؤ کہاں رہے گیسید محمد عبد الغفور شہباز
  4. ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگاجتنا ہے ادھر ادھر بھی ہوگاسید محمد عبد الغفور شہباز
  5. تعلیم کی میزان میں ہیں تلتے جاتےہیں جوہر طبع روز کھلتے جاتےسید محمد عبد الغفور شہباز
  6. دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافلبہتر نہیں اوقات کا کھونا غافلسید محمد عبد الغفور شہباز
  7. غیرت میں سیاست میں شجاعت میں ہو مردہمت میں مروت میں عبادت میں ہو مردسید محمد عبد الغفور شہباز
  8. کہتے ہو کہ کر لیں گے ہم اس کام کو کلایسا نہ ہو کہ کل بھی ہاتھ سے جائے نکلسید محمد عبد الغفور شہباز
  9. لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغکر شکر جو حاصل ہے ترے دل کو فراغسید محمد عبد الغفور شہباز
  10. مرغوب ہو گر تم کو عمومی شاباشہر طرح کرو دولت دنیا کی تلاشسید محمد عبد الغفور شہباز
  11. ہے جس کی سرشت میں سفاہت کا میللے جائے بہا کے گرچہ تعلیم کا سیلسید محمد عبد الغفور شہباز
  12. اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاججو قوم ہو کبھی نہ محتاج علاجسید محمد عبد الغفور شہباز
  13. اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہمیا اس سے کہ کج کلاہ ہو سکتے ہمسید محمد عبد الغفور شہباز
  14. ایرانی فصاحت اور حجازی غیرتیونانی بلاغت اور رومی حکمتسید محمد عبد الغفور شہباز
  15. پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفرممکن ہی نہیں اس سے کسی طرح مفرسید محمد عبد الغفور شہباز
  16. تن عیش کا گھر ہے اس کا اسباب ہے روحمینا ہے یہ اور بادۂ ناب ہے روحسید محمد عبد الغفور شہباز
  17. جس علم سے اچھوں کی ہو خوبی ظاہرہو اس سے رذیلوں کی برائی ظاہرسید محمد عبد الغفور شہباز
  18. دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیںمحراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیںسید محمد عبد الغفور شہباز
  19. یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہےہر طرح سے جو خیال کو بھائی ہےسید محمد عبد الغفور شہباز
  20. کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہسمجھ میں لعل کی اب تک حنا نہیں آئیسید محمد عبد الغفور شہباز