Poetry
- انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہےثابت ہے گل اور شبنم سے جو ہنستا ہے وہ روتا ہےسید محمد عبد الغفور شہباز
- بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگےبلبلہ آنکھوں سے خونابہ فشانی مانگےسید محمد عبد الغفور شہباز
- نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گیاگر جدائی میں جاں رہے گی تمہیں بتاؤ کہاں رہے گیسید محمد عبد الغفور شہباز
- ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگاجتنا ہے ادھر ادھر بھی ہوگاسید محمد عبد الغفور شہباز
- تعلیم کی میزان میں ہیں تلتے جاتےہیں جوہر طبع روز کھلتے جاتےسید محمد عبد الغفور شہباز
- دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافلبہتر نہیں اوقات کا کھونا غافلسید محمد عبد الغفور شہباز
- غیرت میں سیاست میں شجاعت میں ہو مردہمت میں مروت میں عبادت میں ہو مردسید محمد عبد الغفور شہباز
- کہتے ہو کہ کر لیں گے ہم اس کام کو کلایسا نہ ہو کہ کل بھی ہاتھ سے جائے نکلسید محمد عبد الغفور شہباز
- لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغکر شکر جو حاصل ہے ترے دل کو فراغسید محمد عبد الغفور شہباز
- مرغوب ہو گر تم کو عمومی شاباشہر طرح کرو دولت دنیا کی تلاشسید محمد عبد الغفور شہباز
- ہے جس کی سرشت میں سفاہت کا میللے جائے بہا کے گرچہ تعلیم کا سیلسید محمد عبد الغفور شہباز
- اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاججو قوم ہو کبھی نہ محتاج علاجسید محمد عبد الغفور شہباز
- اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہمیا اس سے کہ کج کلاہ ہو سکتے ہمسید محمد عبد الغفور شہباز
- ایرانی فصاحت اور حجازی غیرتیونانی بلاغت اور رومی حکمتسید محمد عبد الغفور شہباز
- پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفرممکن ہی نہیں اس سے کسی طرح مفرسید محمد عبد الغفور شہباز
- تن عیش کا گھر ہے اس کا اسباب ہے روحمینا ہے یہ اور بادۂ ناب ہے روحسید محمد عبد الغفور شہباز
- جس علم سے اچھوں کی ہو خوبی ظاہرہو اس سے رذیلوں کی برائی ظاہرسید محمد عبد الغفور شہباز
- دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیںمحراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیںسید محمد عبد الغفور شہباز
- یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہےہر طرح سے جو خیال کو بھائی ہےسید محمد عبد الغفور شہباز
- کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہسمجھ میں لعل کی اب تک حنا نہیں آئیسید محمد عبد الغفور شہباز