Poetry
- اس کی شباہت کسی شمس و قمر میں نہیںایک اسے دیکھ کر کوئی نظر میں نہیںSabiha Saba (b. 1950)
- اک تری یاد سے یادوں کے خزانے نکلےذکر تیرا بھی بھی محبت کے بہانے نکلےSabiha Saba (b. 1950)
- اگر نہیں ہے اجازت سوال مت کرنااور اپنے دل میں زیادہ ملال مت کرناSabiha Saba (b. 1950)
- بظاہر رونقوں میں بزم آرائی میں جیتے ہیںحقیقت ہے کہ ہم تنہا ہیں تنہائی میں جیتے ہیںSabiha Saba (b. 1950)
- تو نہیں ہے تو مری شام اکیلی چپ ہےیاد میں دل کی یہ ویران حویلی چپ ہےSabiha Saba (b. 1950)
- جان گئے تو مان لیایوں تجھ کو پہچان لیاSabiha Saba (b. 1950)
- جب کبھی حادثات نے مارایوں لگا کائنات نے ماراSabiha Saba (b. 1950)
- جو بھی ہوگا وار دیکھا جائے گاغم نہ کر غم خوار دیکھا جائے گاSabiha Saba (b. 1950)
- حادثوں کی دنیا میں کون کس کو روتا ہےیاد کر کے دکھ اپنے خون دل کا ہوتا ہےSabiha Saba (b. 1950)
- درست ہے کہ یہ دن رائیگاں نہیں گزرےمگر سکوں سے تو اے جان جاں نہیں گزرےSabiha Saba (b. 1950)
- دل میں آ جا دل بر سائیںسونا تجھ بن یہ گھر سائیںSabiha Saba (b. 1950)
- عجب سی بے کلی سے چور کوئیکچھ اپنے دل سے ہے مجبور کوئیSabiha Saba (b. 1950)
- غموں سے اپنے کوئی شخص چور ہوتا ہےکسی کے دل میں خوشی کا غرور ہوتا ہےSabiha Saba (b. 1950)
- قلم کو اس لئے تلوار کرناکہ بڑھ کے ظلم پر ہے وار کرناSabiha Saba (b. 1950)
- نہیں جانے ہے وہ حرف ستائش برملا کہنامگر نظروں ہی نظروں میں وہ اس کا واہ وا کہناSabiha Saba (b. 1950)
- یہ دل کی داستان ہے کہ دل غلام کر دیاعجیب لوگ آپ ہیں عجیب کام کر دیاSabiha Saba (b. 1950)
- یہ سیل اشک مجھے گفتگو کی تاب تو دےجو یہ کہوں کہ وفا کا مری حساب تو دےSabiha Saba (b. 1950)