Poetry
- افکار کے سانچے میں ڈھلی تازہ غزل ہےیا وقت کے پیچیدہ سوالات کا حل ہےSaba Naqvi (b. 1940)
- بے معنی لا حاصل ردی شعروں کا ہے جال ادھرجو چیزیں بیکار ہیں پیارے ان چیزوں کو ڈال ادھرSaba Naqvi (b. 1940)
- بے نام ساعتوں کا سفر ختم ہو چلالو امتحان فکر و نظر ختم ہو چلاSaba Naqvi (b. 1940)
- پیر مے خانہ پہ مرتے ہیں مریدوں کی طرحجان دیتے ہیں محبت میں شہیدوں کی طرحSaba Naqvi (b. 1940)
- تمام عمر ہو نہ پائی وہ نظر اپنیرہ حیات میں بنتی جو ہم سفر اپنیSaba Naqvi (b. 1940)
- دل مضطر کو سمجھا لوں بہت ہےمیں خود سے اپنا گھر چھالوں بہت ہےSaba Naqvi (b. 1940)
- راہ حیات میں دل ویراں دہائی دےدشمن کو بھی خدا نہ غم آشنائی دےSaba Naqvi (b. 1940)
- قلم سے رابطۂ رنگ و آب ٹوٹ گیاکسی مصور فطرت کا خواب ٹوٹ گیاSaba Naqvi (b. 1940)
- کسی کا آہنگ کیف زا ہے کسی کا لہجہ گلو گرفتہبقدر عرفان زندگی ہے ہر ایک دل آرزو گرفتہSaba Naqvi (b. 1940)
- کھو گئی غیرت دل ذوق طلب باقی ہےکیسے مر جاؤں کہ جینے کا سبب باقی ہےSaba Naqvi (b. 1940)
- لب خموش کو ارمان گفتگو ہی سہیجگر میں حوصلۂ عرض آرزو ہی سہیSaba Naqvi (b. 1940)
- میکدے کی شرط دور بادہ و ساغر کی قیدایک میری تشنگی اور اس پہ دنیا بھر کی قیدSaba Naqvi (b. 1940)
- میں بدلتے موسموں کے رنگ سے بیزار ہوںہر نئی رت سے چمن میں برسر پیکار ہوںSaba Naqvi (b. 1940)
- نظر کے سرخ ڈورے دل میں اترےمسافر دامن ساحل میں اترےSaba Naqvi (b. 1940)
- نغمہ زن ہے نظر بے آوازکیوں مرے دل اثر بے آوازSaba Naqvi (b. 1940)
- نیا شگوفہ اشارۂ یار پر کھلا ہےگلاب اب کے چمن کی دیوار پر کھلا ہےSaba Naqvi (b. 1940)