Poetry
- آنے کو نظر میں مری سو فتنہ گر آئےتجھ سا نظر آیا ہے نہ تجھ سا نظر آئےرسا رامپوری
- آئینہ خود نمائی ان کو سکھا رہا ہےکیا قہر کر رہا ہے کیا ظلم ڈھا رہا ہےرسا رامپوری
- ان کی خلوت میں رساؔ بھی ہوگاکبھی یوں حکم خدا بھی ہوگارسا رامپوری
- پی کے کر لیتا ہوں توبہ جب سے یہ دستور ہےدل بھی روشن ہے مرا منہ پر بھی میرے نور ہےرسا رامپوری
- جی چاہا جدھر چھوڑ دیا تیر ادا کوچٹکی میں اڑائے ہوئے پھرتے ہیں قضا کورسا رامپوری
- دشمن کی بات جب تری محفل میں رہ گئیامید یاس بن کے مرے دل میں رہ گئیرسا رامپوری
- دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کےسیکھو ابھی سلیقے کچھ روز دلبری کےرسا رامپوری
- راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مراوہ مجھے روئے یہ کہہ کر ہائے دیوانا مرارسا رامپوری
- رساؔ کو دل میں رکھتے ہیں رساؔ کے جاننے والےوفا کی قدر کرتے ہیں وفا کے جاننے والےرسا رامپوری
- ساقی جو دئے جائے یہ کہہ کر کہ پئے جاتو میں بھی پئے جاؤں یہ کہہ کر کہ دیئے جارسا رامپوری
- نیچی نظروں سے نہ دیکھو سر محشر دیکھودادخواہوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھورسا رامپوری
- وہ خوش کسی کے ساتھ ہیں ناخوش کسی کے ساتھہر آدمی کی بات ہے ہر آدمی کے ساتھرسا رامپوری
- عاشق کو تیرے لاکھ کوئی رہنما ملےتیرا پتا ملا ہے نہ تیرا پتا ملےرسا رامپوری
- کون سا عشق بتاں میں ہمیں صدمہ نہ ہوادرد فرقت نہ ہوا غم نہ ہوا کیا نہ ہوارسا رامپوری