Poetry
- آؤ ہر یار گزشتہ کو بلایا جائےدل کی حالت کا تماشہ سا بنایا جائےRafia Zainab (b. 1995)
- اب کہاں وہ وقت کے بے لوث یاری چاہیئےعمر کے اس دور میں اب ذمہ داری چاہیئےRafia Zainab (b. 1995)
- جلتی رتوں میں عمر گزرنے کے بعد ابسرشار ایک سایۂ رحمت نے کر دیاRafia Zainab (b. 1995)
- جی پہ لے کر یہ بار بیٹھے ہیںتیرے عاشق ہزار بیٹھے ہیںRafia Zainab (b. 1995)
- شوق اب تکمیل کو پہنچا مرادیکھ کیسا زرد ہے چہرہ مراRafia Zainab (b. 1995)
- عمر گزری کہ تجھے ہم نے بھلا رکھا ہےاپنے ہر جاننے والے کو بتا رکھا ہےRafia Zainab (b. 1995)
- کبھی مقدر جو یہ عنایت کرے تو کیا ہوبچھڑ کے مجھ سے وہ میری چاہت کرے تو کیا ہوRafia Zainab (b. 1995)
- کوئی اتنا بے سہارا کیسے ہو سکتا ہے یارایک منظر پر گزارا کیسے ہو سکتا ہے یارRafia Zainab (b. 1995)
- مجھے سوال کی شرمندگی سے الجھن تھیوہ میرے پوچھے بنا ہر جواب رکھتا تھاRafia Zainab (b. 1995)
- ہم کو اتنا ہی بس غنیمت ہےنا سہی عشق پر عنایت ہےRafia Zainab (b. 1995)
- ہو چکا کھیل یہ اسباب اٹھاؤ جاؤکوئی امید نہ اب مجھ کو بندھاؤ جاؤRafia Zainab (b. 1995)
- یوں جونؔ پڑھ کر لہو اگلنے کی مجھ سے شرطیں نہ باندھ لیناغرض کے بے جا گمان پر تم یقیں کی گرہیں نہ باندھ لیناRafia Zainab (b. 1995)