Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آؤ ہر یار گزشتہ کو بلایا جائےدل کی حالت کا تماشہ سا بنایا جائےRafia Zainab (b. 1995)
  2. اب کہاں وہ وقت کے بے لوث یاری چاہیئےعمر کے اس دور میں اب ذمہ داری چاہیئےRafia Zainab (b. 1995)
  3. جلتی رتوں میں عمر گزرنے کے بعد ابسرشار ایک سایۂ رحمت نے کر دیاRafia Zainab (b. 1995)
  4. جی پہ لے کر یہ بار بیٹھے ہیںتیرے عاشق ہزار بیٹھے ہیںRafia Zainab (b. 1995)
  5. شوق اب تکمیل کو پہنچا مرادیکھ کیسا زرد ہے چہرہ مراRafia Zainab (b. 1995)
  6. عمر گزری کہ تجھے ہم نے بھلا رکھا ہےاپنے ہر جاننے والے کو بتا رکھا ہےRafia Zainab (b. 1995)
  7. کبھی مقدر جو یہ عنایت کرے تو کیا ہوبچھڑ کے مجھ سے وہ میری چاہت کرے تو کیا ہوRafia Zainab (b. 1995)
  8. کوئی اتنا بے سہارا کیسے ہو سکتا ہے یارایک منظر پر گزارا کیسے ہو سکتا ہے یارRafia Zainab (b. 1995)
  9. مجھے سوال کی شرمندگی سے الجھن تھیوہ میرے پوچھے بنا ہر جواب رکھتا تھاRafia Zainab (b. 1995)
  10. ہم کو اتنا ہی بس غنیمت ہےنا سہی عشق پر عنایت ہےRafia Zainab (b. 1995)
  11. ہو چکا کھیل یہ اسباب اٹھاؤ جاؤکوئی امید نہ اب مجھ کو بندھاؤ جاؤRafia Zainab (b. 1995)
  12. یوں جونؔ پڑھ کر لہو اگلنے کی مجھ سے شرطیں نہ باندھ لیناغرض کے بے جا گمان پر تم یقیں کی گرہیں نہ باندھ لیناRafia Zainab (b. 1995)