Poetry
- ازل سے بس یہی عالم ہے کیا کیا جائےکبھی خوشی ہے کبھی غم ہے کیا کیا جائےNafees Ahmad Sahar
- ایک ہی مضمون کے کتنے ہیں بابخون آنسو چیخ وحشت اضطرابNafees Ahmad Sahar
- تم مرے خواب پریشاں کا اثر دیکھو تومضمحل سارا گلستاں ہے ادھر دیکھو توNafees Ahmad Sahar
- تیرگی ہو تو کیا کرے کوئیشمع بن کر جلا کرے کوئیNafees Ahmad Sahar
- جسم اپنا ہے جاں پرائی ہےبات اب کچھ سمجھ میں آئی ہےNafees Ahmad Sahar
- حکومت ذہن و دل پہ جب سے قائم ہے اندھیروں کیاڑانیں بھول بیٹھی ہیں نئی نسلیں پرندوں کیNafees Ahmad Sahar
- خیال شب کبھی فکر سحر میں رہتا ہےتمام عمر پرندہ سفر میں رہتا ہےNafees Ahmad Sahar
- رہو گے بزم ہستی میں یوں ہی بے دست و پا کب تککرو گے تم زمانے سے مقدر کا گلہ کب تکNafees Ahmad Sahar
- مضطرب اور ہوا ذوق نظر آخر شببند امید کے سب ہو گئے در آخر شبNafees Ahmad Sahar
- نہ گل کھلے ہیں نہ گردش میں جام آیا ہےیہ کیسا اب کے چمن میں نظام آیا ہےNafees Ahmad Sahar
- وہ زندگی مرے نزدیک زندگی نہ ہوئیتمام عمر میسر جسے خوشی نہ ہوئیNafees Ahmad Sahar