Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آفاق سے استاد یگانہ اٹھامضموں کے جواہر کا خزانہ اٹھامرزا سلامت علی دبیر
  2. ادنیٰ سے جو سر جھکائے اعلیٰ وہ ہےجو خلق سے بہرہ ور ہے دریا وہ ہےمرزا سلامت علی دبیر
  3. اس بزم کو جنت سے جو خوش پاتے ہیںرضواں لیے گلدستہ نور آتے ہیںمرزا سلامت علی دبیر
  4. اس بزم میں ارباب شعور آئے ہیںیہ شیعہ ہیں یا آیۂ نور آئے ہیںمرزا سلامت علی دبیر
  5. اعدا کو ادھر حرام کا مال ملاحرؔ کو اسداللہ کا ادھر لال ملامرزا سلامت علی دبیر
  6. پھر چرخ پر آسمان پیر آیا ہےہر کوچہ میں وقت دار و گیر آیا ہےمرزا سلامت علی دبیر
  7. درگاہ علم دار سے بہبودی ہےبیماری کو واں شفائے خوشنودی ہےمرزا سلامت علی دبیر
  8. فرمان علی لوح و قلم تک پہنچافضل ان کا ہر ایک غم میں ہم تک پہنچامرزا سلامت علی دبیر
  9. مشہور جہاں ہے داستان شیریںشیریں نے فدا کی شہ پہ جان شیریںمرزا سلامت علی دبیر
  10. ہم شان نجف نہ عرش انور ٹھہرامیزان میں یہ بھاری وہ سبک تر ٹھہرامرزا سلامت علی دبیر
  11. آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائےغل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
  12. اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہےخنداں گل امید یہاں رہتا ہےمرزا سلامت علی دبیر
  13. اے خضر کے رہبر مجھے گمراہ نہ کرممنوں گدا دلوں کا یا شاہ نہ کرمرزا سلامت علی دبیر
  14. پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہےعالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہےمرزا سلامت علی دبیر
  15. صغریٰ کا مرض کم نہ ہوا درماں سےآخر ہوئی بیمار تپ ہجراں سےمرزا سلامت علی دبیر
  16. کیا قامت احمد نے ضیا پائی ہےچہرے میں عجب نور کی زیبائی ہےمرزا سلامت علی دبیر
  17. ہر چشم سے چشمے کی روانی ہو جائےپھر تازہ مری مرثیہ خوانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
  18. ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہےاور بین کے مابین بیاں اور ہی ہےمرزا سلامت علی دبیر
  19. یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کوآباد رکھو اہل عزا کے گھر کومرزا سلامت علی دبیر
  20. بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہےمریم درود خواں ہے یہ کس کی جناب ہےمرزا سلامت علی دبیر
  21. پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئیپنہاں درازیٔ پر طاؤس شب ہوئیمرزا سلامت علی دبیر
  22. جب سرنگوں ہوا علم کہکشان شبخورشید کے نشاں نے مٹایا نشان شبمرزا سلامت علی دبیر
  23. روشن کیا جو حق نے چراغ انتقام کادل صر صر فنا سے بجھا اہل شام کامرزا سلامت علی دبیر
  24. کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہےرستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہےمرزا سلامت علی دبیر