Poetry
- آفاق سے استاد یگانہ اٹھامضموں کے جواہر کا خزانہ اٹھامرزا سلامت علی دبیر
- ادنیٰ سے جو سر جھکائے اعلیٰ وہ ہےجو خلق سے بہرہ ور ہے دریا وہ ہےمرزا سلامت علی دبیر
- اس بزم کو جنت سے جو خوش پاتے ہیںرضواں لیے گلدستہ نور آتے ہیںمرزا سلامت علی دبیر
- اس بزم میں ارباب شعور آئے ہیںیہ شیعہ ہیں یا آیۂ نور آئے ہیںمرزا سلامت علی دبیر
- اعدا کو ادھر حرام کا مال ملاحرؔ کو اسداللہ کا ادھر لال ملامرزا سلامت علی دبیر
- پھر چرخ پر آسمان پیر آیا ہےہر کوچہ میں وقت دار و گیر آیا ہےمرزا سلامت علی دبیر
- درگاہ علم دار سے بہبودی ہےبیماری کو واں شفائے خوشنودی ہےمرزا سلامت علی دبیر
- فرمان علی لوح و قلم تک پہنچافضل ان کا ہر ایک غم میں ہم تک پہنچامرزا سلامت علی دبیر
- مشہور جہاں ہے داستان شیریںشیریں نے فدا کی شہ پہ جان شیریںمرزا سلامت علی دبیر
- ہم شان نجف نہ عرش انور ٹھہرامیزان میں یہ بھاری وہ سبک تر ٹھہرامرزا سلامت علی دبیر
- آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائےغل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
- اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہےخنداں گل امید یہاں رہتا ہےمرزا سلامت علی دبیر
- اے خضر کے رہبر مجھے گمراہ نہ کرممنوں گدا دلوں کا یا شاہ نہ کرمرزا سلامت علی دبیر
- پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہےعالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہےمرزا سلامت علی دبیر
- صغریٰ کا مرض کم نہ ہوا درماں سےآخر ہوئی بیمار تپ ہجراں سےمرزا سلامت علی دبیر
- کیا قامت احمد نے ضیا پائی ہےچہرے میں عجب نور کی زیبائی ہےمرزا سلامت علی دبیر
- ہر چشم سے چشمے کی روانی ہو جائےپھر تازہ مری مرثیہ خوانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
- ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہےاور بین کے مابین بیاں اور ہی ہےمرزا سلامت علی دبیر
- یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کوآباد رکھو اہل عزا کے گھر کومرزا سلامت علی دبیر
- بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہےمریم درود خواں ہے یہ کس کی جناب ہےمرزا سلامت علی دبیر
- پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئیپنہاں درازیٔ پر طاؤس شب ہوئیمرزا سلامت علی دبیر
- جب سرنگوں ہوا علم کہکشان شبخورشید کے نشاں نے مٹایا نشان شبمرزا سلامت علی دبیر
- روشن کیا جو حق نے چراغ انتقام کادل صر صر فنا سے بجھا اہل شام کامرزا سلامت علی دبیر
- کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہےرستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہےمرزا سلامت علی دبیر