Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. امید ہے کہ مجھ کو خدا آدمی کرےپر آدمی کرے تو بھلا آدمی کرےمنتظر لکھنوی
  2. جس کی بخدا اس بت کافر پہ نظر ہےچھاتی ہے پہاڑ اس کی تو پتھر کا جگر ہےمنتظر لکھنوی
  3. خفا ہم سے وہ بے سبب ہو گیاغضب ہو گیا ہے غضب ہو گیامنتظر لکھنوی
  4. دیدہ ہے کہیں دل کہیں اور جان کہیں اوربیٹھا تو ہوں یاں پر ہے مرا دھیان کہیں اورمنتظر لکھنوی
  5. دیکھ کر یہ چلن تمہارے ہمخاک میں مل گئے بے چارے ہممنتظر لکھنوی
  6. عاشق زار ہوں دیوانہ ہوںمیں بھی اک شمع کا پروانہ ہوںمنتظر لکھنوی
  7. عمر بھر اس پہ میں مرا ہی کیاوہ مسیحا بھی دم دیا ہی کیامنتظر لکھنوی
  8. وہ ان زلفوں کا عالم ابتری کاسبب تھا میری شوریدہ سری کامنتظر لکھنوی
  9. ہم نہ وحشت کے مارے مرتے ہیںتیری دہشت کے مارے مرتے ہیںمنتظر لکھنوی
  10. یادگار زمانہ ہیں ہم لوگسن رکھو تم فسانہ ہیں ہم لوگمنتظر لکھنوی
  11. یک بیک جاتا رہا دلبر جو گھر آیا ہوادوڑا دوڑا میں پھرا گلیوں میں گھبرایا ہوامنتظر لکھنوی
  12. اس شوخ کے انداز کو دیکھا تو غضب ہےاور اس کے سوا ناز کو دیکھا تو غضب ہےمنتظر لکھنوی
  13. دل کسو سے تو کیا لگانا تھاہم کو منظور جی سے جانا تھامنتظر لکھنوی
  14. یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہواکبھی اتنا میں پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوامنتظر لکھنوی