Poetry
- امید ہے کہ مجھ کو خدا آدمی کرےپر آدمی کرے تو بھلا آدمی کرےمنتظر لکھنوی
- جس کی بخدا اس بت کافر پہ نظر ہےچھاتی ہے پہاڑ اس کی تو پتھر کا جگر ہےمنتظر لکھنوی
- خفا ہم سے وہ بے سبب ہو گیاغضب ہو گیا ہے غضب ہو گیامنتظر لکھنوی
- دیدہ ہے کہیں دل کہیں اور جان کہیں اوربیٹھا تو ہوں یاں پر ہے مرا دھیان کہیں اورمنتظر لکھنوی
- دیکھ کر یہ چلن تمہارے ہمخاک میں مل گئے بے چارے ہممنتظر لکھنوی
- عاشق زار ہوں دیوانہ ہوںمیں بھی اک شمع کا پروانہ ہوںمنتظر لکھنوی
- عمر بھر اس پہ میں مرا ہی کیاوہ مسیحا بھی دم دیا ہی کیامنتظر لکھنوی
- وہ ان زلفوں کا عالم ابتری کاسبب تھا میری شوریدہ سری کامنتظر لکھنوی
- ہم نہ وحشت کے مارے مرتے ہیںتیری دہشت کے مارے مرتے ہیںمنتظر لکھنوی
- یادگار زمانہ ہیں ہم لوگسن رکھو تم فسانہ ہیں ہم لوگمنتظر لکھنوی
- یک بیک جاتا رہا دلبر جو گھر آیا ہوادوڑا دوڑا میں پھرا گلیوں میں گھبرایا ہوامنتظر لکھنوی
- اس شوخ کے انداز کو دیکھا تو غضب ہےاور اس کے سوا ناز کو دیکھا تو غضب ہےمنتظر لکھنوی
- دل کسو سے تو کیا لگانا تھاہم کو منظور جی سے جانا تھامنتظر لکھنوی
- یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہواکبھی اتنا میں پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوامنتظر لکھنوی