Poetry
- اس قدر ہم ناتوان و زار ہیںبازو اپنے مچھلیوں کے خار ہیںخواجہ محمد وزیر
- ایک عالم نے جبہ سائی کیاے بتو تم نے بھی خدائی کیخواجہ محمد وزیر
- پیش عاشق چشم گریان و لب خنداں ہے ایکجل گیا جو نخل اس کو برق اور باراں ہے ایکخواجہ محمد وزیر
- تری طرف سے دل اے جان جاں اٹھا نہ سکےبہت ضعیف تھے بار گراں اٹھا نہ سکےخواجہ محمد وزیر
- ترے رخ کا کسے سودا نہیں ہےگل لالہ تلک صحرا نشیں ہےخواجہ محمد وزیر
- تنگیٔ دہن سے ہے اڑی باتچھوٹا سا ہے منہ ترا بڑی باتخواجہ محمد وزیر
- تیغ عریاں پہ تمہاری جو پڑی میری آنکھچشم جوہر سے اجی خوب لڑی میری آنکھخواجہ محمد وزیر
- جو خاص بندے ہیں وہ بندۂ عوام نہیںہزار بار جو یوسف بکے غلام نہیںخواجہ محمد وزیر
- جیتے جی بس وہ بت رہا ہم راہاب تو بندے کے ہے خدا ہم راہخواجہ محمد وزیر
- چلا ہے او دل راحت طلب کیا شادماں ہو کرزمین کوئے جاناں رنج دے گی آسماں ہو کرخواجہ محمد وزیر
- چلے بت خانے کو خدا حافظتم بھی زاہد کہو خدا حافظخواجہ محمد وزیر
- چھانتا ہے خاک کیا تو گھر بنانے کے لیےفکر رہنے کی نہ کر آیا ہے جانے کے لیےخواجہ محمد وزیر
- خدا نما ہے بت سنگ آستانۂ عشقچلوں گا پائے نگہ بن کے سوئے خانۂ عشقخواجہ محمد وزیر
- دم بھر جو نہ دیکھے تجھے اے رشک پری آنکھمژگاں کی زبانوں سے کرے نوحہ گری آنکھخواجہ محمد وزیر
- دیکھ بے بادہ کیا ہے اپنا رنگرحم اے آسمان مینا رنگخواجہ محمد وزیر
- سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گاکس کی پھر جھوٹی قسم کھائیے گاخواجہ محمد وزیر
- عاشق زلف و رخ دلدار آنکھیں ہو گئیںمبتلائے کافر و دیندار آنکھیں ہو گئیںخواجہ محمد وزیر
- عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیںمگر یہ حشر کا دن ہے کہ جس کی شام نہیںخواجہ محمد وزیر
- گوہر اشک سے لبریز ہے سارا دامنآج کل دامن دولت ہے ہمارا دامنخواجہ محمد وزیر
- میرے نالوں سے تہہ و بالا ہوئی اکثر زمیںزیر پا آیا فلک اور بارہا سر پر زمیںخواجہ محمد وزیر
- میں سراپا مظہر اسم خدا واللہ ہوںہم صفیرو اس چمن میں مرغ بسم اللہ ہوںخواجہ محمد وزیر
- نہیں کٹتا ہے یہ میدان بلاوادیٔ خضر بیابان بلاخواجہ محمد وزیر
- ہر عضو مسافر ہے نہیں کچھ سفری آنکھہے آخر شب عمر چراغ سحری آنکھخواجہ محمد وزیر
- ہماری اس وفا پر بھی دغا کیقسم کھائی تھی او کافر خدا کیخواجہ محمد وزیر
- ہمیشہ دل میں جو اپنے خیال زلف و کاکل ہےتو سینے میں نفس ہر ایک موج بوئے سنبل ہےخواجہ محمد وزیر
- ہوا ہے عشق تازہ ابتدائی آہ ہوتی ہےمبارک طفل دل کی آج بسم اللہ ہوتی ہےخواجہ محمد وزیر
- ہے غلط گر ترے دانتوں کو کہوں تارے ہیںکہ دہن مصحف ناطق ہے یہ سیپارے ہیںخواجہ محمد وزیر
- ابر کیا گھر گھر کے آیا کھل گیابس ثبات بحر دنیا کھل گیاخواجہ محمد وزیر
- بات کا اپنی نہ جب پایا جوابہم یہ سمجھے وہ دہن ہے لا جوابخواجہ محمد وزیر
- وصل میں رفتار معشوقانہ دکھلاتی ہے نیندآج کن اٹکھیلیوں سے آنکھوں میں آتی ہے نیندخواجہ محمد وزیر
- ہے نقش درم جو نقش پا ہےآپ آتے تو گھر درم سرا ہےخواجہ محمد وزیر