Poetry
- آنے کو تو بالیں پر وہ جان بہار آیالیکن دل مضطر کو پھر بھی نہ قرار آیاKaleem Saronji (b. 1921)
- بہ فیض عشق ہم نے جب خرد کا راستہ بدلامذاق زندگی کے ساتھ دل کا مدعا بدلاKaleem Saronji (b. 1921)
- بیکلی درد میں شامل کبھی ایسی تو نہ تھیطبع پروانۂ محفل کبھی ایسی تو نہ تھیKaleem Saronji (b. 1921)
- جو راہ رو میں ابھی عزم رہروی کم ہےبہ قید ہوش و خرد آج آگہی کم ہےKaleem Saronji (b. 1921)
- زندگی وقف غم و حسرت و آلام سہیآپ دے دیں تو یہی عشق کا انعام سہیKaleem Saronji (b. 1921)
- صورت واقعات کچھ بھی نہیںچبھ گئی ورنہ بات کچھ بھی نہیںKaleem Saronji (b. 1921)
- کاش محفل میں آج تو بھی ہواور کچھ میری گفتگو بھی ہوKaleem Saronji (b. 1921)
- کوئی پورا جو مدعا نہ ہوازندگی کے لئے برا نہ ہواKaleem Saronji (b. 1921)
- کوئی سکوں کی راہ نہیں ہےلیکن لب پر آہ نہیں ہےKaleem Saronji (b. 1921)
- مانا کہ میں اک نغمۂ بے صوت و صدا ہوںبھٹکے ہوئے لوگوں کے لئے بانگ درا ہوںKaleem Saronji (b. 1921)
- ہر ساعت بہار و مسرت گزر گئیدل کیا گیا کہ لذت درد جگر گئیKaleem Saronji (b. 1921)
- ہر نفس انقلاب ہو جیسےآگہی اضطراب ہو جیسےKaleem Saronji (b. 1921)