Poetry
- آزادیٔ ضمیر ستم گر خرید لیسر نے ہمارے قوت خنجر خرید لیKaifi Sanbhali
- اب مرے پاس فقط ڈھال ہے تلوار نہیںمیں زمیں دار کا بیٹا ہوں زمیں دار نہیںKaifi Sanbhali
- اپنے سب زخموں پہ ہم سوئے تھے آنسو باندھ کرآ گئیں پروائیاں پیروں میں گھنگرو باندھ کرKaifi Sanbhali
- سنبھال قلب و جگر تیغ اٹھا نظر نہ بچاترا گماں یہ غلط ہے کہ کوئی سر نہ بچاKaifi Sanbhali
- سینے میں اس چبھے ہوئے خنجر کا شکریہہاں شکریہ عزیز برادر کا شکریہKaifi Sanbhali
- شعور و فکر کی گہرائیوں سے ہار گیامیں وہ بدن ہوں جو پرچھائیوں سے ہار گیاKaifi Sanbhali
- یوں تو کہنے کو مرے خون کے پیاسے ہیں سبھیسر قلم کون کرے گا کہ نہتے ہیں سبھیKaifi Sanbhali
- یوں موسموں کے ساتھ بھی لڑنا ضرور تھالیکن شجر تھا میں تو اجڑنا ضرور تھاKaifi Sanbhali
- یہ مت سمجھ کہ چاند ستاروں کے ساتھ ہوںسورج نہیں ہے بعد میں جس کے وہ رات ہوںKaifi Sanbhali
- تازہ خبر ملی ہےہتھنی دلہن بنی ہےKaifi Sanbhali
- گو آنکھوں سے محروم تھے میرے بابامگر قلب روشن تو تھا پاس ان کےKaifi Sanbhali