Poetry
- ابھی تو فیصلہ باقی ہے شام ہونے دےسحر کی اوٹ میں مہتاب جاں کو رونے دےKabir Ajmal (1967–2020)
- اپنی انا سے بر سر پیکار میں ہی تھاسچ بولنے کی دھن تھی سر دار میں ہی تھاKabir Ajmal (1967–2020)
- افق کے آخری منظر میں جگمگاؤں میںحصار ذات سے نکلوں تو خود کو پاؤں میںKabir Ajmal (1967–2020)
- اک تصور بے کراں تھا اور میںدرد کا سیل رواں تھا اور میںKabir Ajmal (1967–2020)
- بجائے گل مجھے تحفہ دیا ببولوں کامیں منحرف تو نہیں تھا ترے اصولوں کاKabir Ajmal (1967–2020)
- بجھتی رگوں میں نور بکھرتا ہوا سا میںطوفان ننگ موج گزرتا ہوا سا میںKabir Ajmal (1967–2020)
- سیاہی ڈھل کے پلکوں پر بھی آئےکوئی لمحہ دھنک بن کر بھی آئےKabir Ajmal (1967–2020)
- شرار عشق صدیوں کا سفر کرتا ہوابجھا مجھ میں مجھی کو بے خبر کرتا ہواKabir Ajmal (1967–2020)
- کچھ تعلق بھی نہیں رسم جہاں سے آگےاس سے رشتہ بھی رہا وہم و گماں سے آگےKabir Ajmal (1967–2020)
- میں جسم و جاں کے کھیل میں بیباک ہو گیاکس نے یہ چھو دیا ہے کہ میں چاک ہو گیاKabir Ajmal (1967–2020)
- نئی زمین نئے آسماں سنورتے رہیںیہی ہے شرط تو پھر حرف حرف مرتے رہیںKabir Ajmal (1967–2020)
- وہ خواب طلب گار تماشا بھی نہیں ہےکہتے ہیں کسی نے اسے دیکھا بھی نہیں ہےKabir Ajmal (1967–2020)
- وہ موج ہوا جو ابھی بہنے کی نہیں ہےہم جانتے ہیں آپ سے کہنے کی نہیں ہےKabir Ajmal (1967–2020)
- ہجوم سیارگاں میں روشن دیا اسی کافصیل شب پر بھی گل کھلائے ہوا اسی کاKabir Ajmal (1967–2020)
- ہوا کی زد پہ چراغ شب فسانہ تھامگر ہمیں بھی اسی سے دیا جلانا تھاKabir Ajmal (1967–2020)