Poetry
- آج ہر گام پہ رقصاں یہ ستارے کیوں ہیںجذبۂ شوق یہ بے نام سہارے کیوں ہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- اپنا تو خیر ذکر کیا کوئی نہیں نگاہ میںعمر تمام ہو گئی چھوٹے سے اک گناہ میںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- دنیا سجی ہوئی ہے جو بازار کی طرحمیں بھی چلوں گا آج خریدار کی طرحKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- ربط احساس کہاں اب دل ناکام کے ساتھکیوں بجھا جاتا ہے یہ تیرگئ شام کے ساتھKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- سایۂ بے اماں سے کیا حاصلزندگی اس جہاں سے کیا حاصلKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- سراب زیست سے بچنا تو بس کے باہر تھامگر جو سینے پہ یادوں کا سخت پتھر تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- کچھ تم سے شکایت تھی نہ دنیا سے گلہ تھامیں یوں ہی ذرا دیر کو خاموش ہوا تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- کسی کو پیکر مہتاب میں جو ڈھالا تھاخیال و خواب کا وہ آخری سنبھالا تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- کون جانے ہوگا کیا یہ ماجرا ہونے کے بعدجسم پھیکا پڑ گیا رنگ قبا ہونے کے بعدKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- وقت خود سر ہے سدا اپنی ہی من مانی کرےبہتا دریا آگ کر دے آگ کو پانی کرےKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- یوں تو ہر داغ تجھے ہم نے دکھایا بھی نہیںلیکن اے دوست کوئی راز چھپایا بھی نہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)