Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج ہر گام پہ رقصاں یہ ستارے کیوں ہیںجذبۂ شوق یہ بے نام سہارے کیوں ہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  2. اپنا تو خیر ذکر کیا کوئی نہیں نگاہ میںعمر تمام ہو گئی چھوٹے سے اک گناہ میںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  3. دنیا سجی ہوئی ہے جو بازار کی طرحمیں بھی چلوں گا آج خریدار کی طرحKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  4. ربط احساس کہاں اب دل ناکام کے ساتھکیوں بجھا جاتا ہے یہ تیرگئ شام کے ساتھKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  5. سایۂ بے اماں سے کیا حاصلزندگی اس جہاں سے کیا حاصلKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  6. سراب زیست سے بچنا تو بس کے باہر تھامگر جو سینے پہ یادوں کا سخت پتھر تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  7. کچھ تم سے شکایت تھی نہ دنیا سے گلہ تھامیں یوں ہی ذرا دیر کو خاموش ہوا تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  8. کسی کو پیکر مہتاب میں جو ڈھالا تھاخیال و خواب کا وہ آخری سنبھالا تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  9. کون جانے ہوگا کیا یہ ماجرا ہونے کے بعدجسم پھیکا پڑ گیا رنگ قبا ہونے کے بعدKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  10. وقت خود سر ہے سدا اپنی ہی من مانی کرےبہتا دریا آگ کر دے آگ کو پانی کرےKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  11. یوں تو ہر داغ تجھے ہم نے دکھایا بھی نہیںلیکن اے دوست کوئی راز چھپایا بھی نہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)