Poetry
- آتش فکر بدن گھلتا ہو پیہم جیسےکسی ناگن نے کہیں چاٹی ہو شبنم جیسےJafar Raza (1939–2022)
- بری بات ان کو ہماری لگےہمیں ان کی ہر بات پیاری لگےJafar Raza (1939–2022)
- تھا ان کی طرح میں بھی آغاز میں سودائیبڑھنے دو جنوں یاراں آ جائے گی دانائیJafar Raza (1939–2022)
- جب ہوئی خاک تو اکسیر ہوئی ہے باباآرزو مٹنے سے تاثیر ہوئی ہے باباJafar Raza (1939–2022)
- چاندنی رات میں صندل سا بکھرتا سایہایک آسیب کی صورت نظر آیا سایہJafar Raza (1939–2022)
- حدیث عشق کو عنوان لا جواب ملامجھے نگاہ ملی ہے اسے شباب ملاJafar Raza (1939–2022)
- حریم ذات کے پردے میں جستجو یاراںزہے نصیب مجھے میری آرزو یاراںJafar Raza (1939–2022)
- دل جو مردہ ہو تو یہ رشک جناں کچھ بھی نہیںلالہ ہو سبزہ ہو یا آب رواں کچھ بھی نہیںJafar Raza (1939–2022)
- دیکھے تو تمدن کا بننا کوئی اردو میںبیگانہ مزاجوں کی ہے دوستی اردو میںJafar Raza (1939–2022)
- ذات کے گرد فصیلیں ہیں ریاضت معلومصرف جنت کے لیے ہے تو عبادت معلومJafar Raza (1939–2022)
- ساز ہستی پہ اگر گاؤ تو کچھ بات بنےشعر بن جائیں جو یہ گھاؤ تو کچھ بات بنےJafar Raza (1939–2022)
- سچے دل سے وعدہ کیا ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہےاس کا کیا ہے بھول گیا ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہےJafar Raza (1939–2022)
- کب ہوا مٹھی میں آتی ہے عبث دوڑا کیاجانے کیا کیا کل یوں ہی میں رات بھر سوچا کیاJafar Raza (1939–2022)
- کبھی تو دوستو اپنے وطن کی بات کریںکبھی تو چاک دل و پیرہن کی بات کریںJafar Raza (1939–2022)
- نشتر سی دل میں چبھتی ہوئی بات لے چلیںآئے ہیں تو خلوص کی سوغات لے چلیںJafar Raza (1939–2022)
- وعدۂ الفت و پیمان وفا سے توبہتجربہ کہتا ہے اس حسن ادا سے توبہJafar Raza (1939–2022)
- ہجوم یاس میں بھی آس جاوداں ٹھہرییہ اپنی دھرتی کی بوباس بے کراں ٹھہریJafar Raza (1939–2022)
- ہر سمت تازگی سی جھرنوں کی نغمگی سے کتنیمشابہت ہے ساقی تری ہنسی سےJafar Raza (1939–2022)
- ہم اپنے آپ سے کرتے رہے بیاں تنہاتمہاری بزم میں بیٹھے کہاں کہاں تنہاJafar Raza (1939–2022)