Poetry
- تقدیر بگڑتی جاتی ہے گو بات بنائے جاتے ہیںوہ اتنا ہی روٹھے جاتے ہیں ہم جتنا منائے جاتے ہیںHabeeb Jaunpuri
- جس کا مجھے ارماں ہے وہ اکثر نہیں ملتامیں ہوش میں ہوں اور مجھے گھر نہیں ملتاHabeeb Jaunpuri
- شام وعدہ گاہ رونا گاہ ہنسنا دیکھتےآپ تو آئے نہیں ورنہ تماشا دیکھتےHabeeb Jaunpuri
- کسی طرح بھی وہ تکمیل مدعا کرتےوفا کی خو جو نہیں تھی تو پھر جفا کرتےHabeeb Jaunpuri
- یہ تو ممکن نہ تھا وفا کرتےآپ مل کر بھی مجھ سے کیا کرتےHabeeb Jaunpuri
- یہ شان وفا غم کی حکایت سے ملی ہےدولت مجھے یہ درد محبت سے ملی ہےHabeeb Jaunpuri
- باتوں میں تھی دلیل حوالہ سخن میں تھاتو تھا تو گفتگو کا مزا انجمن میں تھاHabeeb Jaunpuri
- خاک کے ذروں کو تنویر نظر دیتا ہے وہپھول کی پتی کو لوہے کا جگر دیتا ہے وہHabeeb Jaunpuri
- خطۂ ارض پہ کیا شان ہے تیری اردوتو مری زیست کا ارمان ہے میری اردوHabeeb Jaunpuri
- کھوئے ہوئے ہیں سر کو جھکائے ہوئے ہیں آپجیسے کہ بار عشق اٹھائے ہوئے ہیں آپHabeeb Jaunpuri
- یاد ہے آغاز الفت کا زمانہ یاد ہےڈال کر بانہوں میں بانہیں مسکرانا یاد ہےHabeeb Jaunpuri