Poetry
- اب میں پیام فصل بہاراں کو کیا کروںدامن کہاں سے لاؤں گریباں کو کیا کروںEhsas Muradabadi
- اب وہ پہلے سے مہر و ماہ نہیںکوئی آسودۂ نگاہ نہیںEhsas Muradabadi
- الم کی حد ہے کہاں بے کسی کہاں تک ہےہمارے غم میں تمہاری خوشی کہاں تک ہےEhsas Muradabadi
- بے سبب عشق کب اداس رہاوہ تمہارا ادا شناس رہاEhsas Muradabadi
- تو ہی بتا دے جمال معنی ترا کریں انتظار کب تکحیات کا اعتبار ہو بھی نگاہ کا اعتبار کب تکEhsas Muradabadi
- چین پڑتا نہیں ہے سونے میںسوئیاں تو نہیں بچھونے میںEhsas Muradabadi
- درد کا درد سے درماں کرتےیوں علاج غم جاناں کرتےEhsas Muradabadi
- دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیامیرے ہونٹوں پر تمہارا نام کیسے آ گیاEhsas Muradabadi
- زمیں سے دور رہے آسماں سے دور رہےجو تم تھے پاس تو سارے جہاں سے دور رہےEhsas Muradabadi
- طوفان محبت لاکھ اٹھے طوفان سے لیکن حاصل کیاجو ڈوب گئی وہ کشتی کیا جو ہاتھ آیا وہ ساحل کیاEhsas Muradabadi
- کوئی طوفاں تو نہیں کوئی تلاطم تو نہیںزندگی نام ہے جس کا وہ کہیں تم تو نہیںEhsas Muradabadi
- کہتے ہیں کہ یوسف کا خریدار تو لاؤاس جنس گراں کو سر بازار تو لاؤEhsas Muradabadi
- وہ درد دل بھی نہیں چشم خوں فشاں بھی نہیںکبھی جو تھا وہ اب انداز گلستاں بھی نہیںEhsas Muradabadi
- ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہااس نے مجھ کو چھوڑا ہے کچھ تو سوچ کر تنہاEhsas Muradabadi