Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیںوہ کون سا گلشن ہے جہاں خار نہیں ہیںD. Raj Kanwal (b. 1923)
  2. پھول جو صحن بیاباں میں جواں ہوتا ہےعظمت فصل بہاراں کا نشاں ہوتا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  3. چھوڑ کر جنت جدھر بھی حضرت آدم گئےساتھ ساتھ ان کے ہزاروں کاروان غم گئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  4. دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پراب وہ کیا الزام دھرے گی ہم جیسے دیوانوں پرD. Raj Kanwal (b. 1923)
  5. دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہےکانٹوں کو گدگدا کے بہت سوچتے رہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  6. رات دو رات کا بسیرا ہےزندگی جوگیوں کا پھیرا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  7. کاندھوں پہ زندگی کی صلیبیں لئے ہوئےغم پھر رہے ہیں میرا پتہ پوچھتے ہوئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  8. کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھامجھے غیروں نے کیا سمجھا مجھے اپنوں نے کیا سمجھاD. Raj Kanwal (b. 1923)
  9. کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہےدل کو جہاں سکوں ملے وہ تو مقام اور ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  10. لوگ جن کو آج تک بار گراں سمجھا کئےہم انہیں لمحوں کو عمر جاوداں سمجھا کئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  11. نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھااپنے سوائے کچھ بھی مگر سوجھتا نہ تھاD. Raj Kanwal (b. 1923)
  12. نفس نفس میں نہاں اضطراب ہوتا ہےبلا کی چیز یہ دور شباب ہوتا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  13. نور ہی نور ہے ظلمات کے آئینے میںرقص کرتی ہے سحر رات کے آئینے میںD. Raj Kanwal (b. 1923)
  14. وفا جس کی ہستی میں شامل نہیں ہےوہ دل ہی محبت کے قابل نہیں ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  15. ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرحہم پریشاں ہیں تری زلف پریشاں کی طرحD. Raj Kanwal (b. 1923)
  16. ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعددن نکلتا ہے اندھیری رات ڈھل جانے کے بعدD. Raj Kanwal (b. 1923)
  17. یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغکہ رہ نہ جائیں کہیں بجھ کے یہ الم کے چراغD. Raj Kanwal (b. 1923)