Poetry
- انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیںوہ کون سا گلشن ہے جہاں خار نہیں ہیںD. Raj Kanwal (b. 1923)
- پھول جو صحن بیاباں میں جواں ہوتا ہےعظمت فصل بہاراں کا نشاں ہوتا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- چھوڑ کر جنت جدھر بھی حضرت آدم گئےساتھ ساتھ ان کے ہزاروں کاروان غم گئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پراب وہ کیا الزام دھرے گی ہم جیسے دیوانوں پرD. Raj Kanwal (b. 1923)
- دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہےکانٹوں کو گدگدا کے بہت سوچتے رہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- رات دو رات کا بسیرا ہےزندگی جوگیوں کا پھیرا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- کاندھوں پہ زندگی کی صلیبیں لئے ہوئےغم پھر رہے ہیں میرا پتہ پوچھتے ہوئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھامجھے غیروں نے کیا سمجھا مجھے اپنوں نے کیا سمجھاD. Raj Kanwal (b. 1923)
- کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہےدل کو جہاں سکوں ملے وہ تو مقام اور ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- لوگ جن کو آج تک بار گراں سمجھا کئےہم انہیں لمحوں کو عمر جاوداں سمجھا کئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھااپنے سوائے کچھ بھی مگر سوجھتا نہ تھاD. Raj Kanwal (b. 1923)
- نفس نفس میں نہاں اضطراب ہوتا ہےبلا کی چیز یہ دور شباب ہوتا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- نور ہی نور ہے ظلمات کے آئینے میںرقص کرتی ہے سحر رات کے آئینے میںD. Raj Kanwal (b. 1923)
- وفا جس کی ہستی میں شامل نہیں ہےوہ دل ہی محبت کے قابل نہیں ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرحہم پریشاں ہیں تری زلف پریشاں کی طرحD. Raj Kanwal (b. 1923)
- ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعددن نکلتا ہے اندھیری رات ڈھل جانے کے بعدD. Raj Kanwal (b. 1923)
- یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغکہ رہ نہ جائیں کہیں بجھ کے یہ الم کے چراغD. Raj Kanwal (b. 1923)