Poetry
- اپنا تمہیں بنانا تھا کہہ کر بنا لیاطرز وفا کا اک نیا دفتر بنا لیاChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- بھٹکتا ہوں مگر کھویا نہیں ہوںبنائی راہ پہ چلتا نہیں ہوںChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- جب شہر دل میں پڑ گئے اس زر بدن کے پاؤںپڑتے نہیں زمین پہ اب اس چمن کے پاؤںChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- جنگلوں میں جو خدا تتلیاں محفوظ رکھےتو زمانے میں وہی لڑکیاں محفوظ رکھےChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- دار و رسن پہ ہر کوئی منصور تو نہیںجھلسے ہوئے پہاڑ سبھی طور تو نہیںChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- رسی تو جل گئی مگر اینٹھن نہیں گئیچاہت تمہاری یوں دم کشتن نہیں گئیChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- سورج اس کے گھر کی کوئی کھڑکی ہےصبح کھلے تو شام کو بند ہو جاتی ہےChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- شگاف خانۂ دل سے ہی روشنی آئیاسے تو آنا تھا ہر حال میں چلی آئیChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- کیا اندھیرا ہے کیا اجالا ہےیہ نظریے کا بس حوالہ ہےChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- مجھے یقیں ہے کوئی راستہ تو نکلے گااگر جو کچھ نہیں نکلا خدا تو نکلے گاChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- وصل کی آخری منزل ہے فنا ہو جاناتجھ سے مل کر ترے بندے کا خدا ہو جاناChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
- ہے خوشی سے کس طرح غم کا خسارہ دیکھیےآسمان یاس پر اگتا ستارا دیکھیےChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)