Poetry
- آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہواانگشتری بنا مرا تن وہ نگیں ہواامانت لکھنوی
- الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آجنازل ہوئی بلا مرے سر پر کہاں سے آجامانت لکھنوی
- بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سبراحت جاں کوئی دلبر نہیں جلاد ہیں سبامانت لکھنوی
- بھولا ہوں میں عالم کو سرشار اسے کہتے ہیںمستی میں نہیں غافل ہشیار اسے کہتے ہیںامانت لکھنوی
- خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سداگھر عبث ہو پوچھتے مجھ خانماں برباد کاامانت لکھنوی
- دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورتاستادہ ہیں ہم باغ میں شمشاد کی صورتامانت لکھنوی
- رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرحگرہ میں رکھتے ہیں ہم آبرو گہر کی طرحامانت لکھنوی
- روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیادشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیاامانت لکھنوی
- زمزمہ کس کی زباں پر بہ دل شاد آیامنہ نہ کھولا تھا کہ پر باندھنے صیاد آیاامانت لکھنوی
- صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیامرغ سحر کے بولتے ہی دم نکل گیاامانت لکھنوی
- گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفیدکیوں نہ ہو خوف اجل سے یہ سیہ کار سفیدامانت لکھنوی
- لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیںمے نہیں یار نہیں شیشہ نہیں جام نہیںامانت لکھنوی
- ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتیپوشاک جو پہنے ہے مرا یار بسنتیامانت لکھنوی