Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہمسب کچھ کہا مگر نہ کھلے راز داں سے ہمAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  2. اب وہ اگلا سا التفات نہیںجس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  3. اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورتنہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  4. بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آجبول کر ہم نے منہ کی کھائی آجAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  5. بری اور بھلی سب گزر جائے گییہ کشتی یونہیں پار اتر جائے گیAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  6. جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہےقدم دشت پیما ہوا چاہتا ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  7. جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگزدوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگزAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  8. حشر تک یاں دل شکیبا چاہئےکب ملیں دلبر سے دیکھا چاہئےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  9. حق وفا کے جو ہم جتانے لگےآپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  10. حقیقت محرم اسرار سے پوچھمزا انگور کا مے خوار سے پوچھAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  11. خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہمپر ہر اک خوبی میں داغ اک عیب کا پاتے ہیں ہمAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  12. دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گاسینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  13. دل کو درد آشنا کیا تو نےدرد دل کو دوا کیا تو نےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  14. دھوم تھی اپنی پارسائی کیکی بھی اور کس سے آشنائی کیAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  15. رنج اور رنج بھی تنہائی کاوقت پہنچا مری رسوائی کاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  16. عشق کو ترک جنوں سے کیا غرضچرخ گرداں کو سکوں سے کیا غرضAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  17. غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیںشادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  18. کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہےکل بتا دے گی خزاں یہ کہ وطن کس کا ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  19. کر کے بیمار دی دوا تو نےجان سے پہلے دل لیا تو نےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  20. کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میںمجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  21. کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسےگر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  22. گو جوانی میں تھی کج رائی بہتپر جوانی ہم کو یاد آئی بہتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  23. گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  24. میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیںاک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  25. واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیامنہ اسے ہم جا کے یہ دکھلائیں کیاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  26. وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہےنہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  27. ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  28. ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پروہی اصرار ہے خطاؤں پرAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  29. آثار زوالAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  30. گدائی کی ترغیبAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  31. اے عیش و طرب تو نے جہاں راج کیاسلطاں کو گدا غنی کو محتاج کیاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  32. تقاضائے سنAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  33. نعتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  34. توحیدAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  35. سکوت درویش جاہلAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  36. عالم و جاہل میں کیا فرق ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  37. مرض پیری لا علاج ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  38. عشقAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  39. وقت کی مساعدتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  40. انقلاب روزگارAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  41. موجودہ ترقی کا انجامAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  42. جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہےدشمن سے بھی نام تیرا جپواتی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  43. مکر و ریاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  44. مخالفت کا جواب خاموشی سے بہتر نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  45. ریفارم کی حدAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  46. سختی کا جواب نرمی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  47. مناجات بیوہAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  48. حب وطنAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  49. نشاط امیدAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  50. جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیاتٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہر ہلاہل سربسرAltaf Hussain Hali (1837–1914)