Poetry
- آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہمسب کچھ کہا مگر نہ کھلے راز داں سے ہمAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- اب وہ اگلا سا التفات نہیںجس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورتنہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آجبول کر ہم نے منہ کی کھائی آجAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- بری اور بھلی سب گزر جائے گییہ کشتی یونہیں پار اتر جائے گیAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہےقدم دشت پیما ہوا چاہتا ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگزدوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگزAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- حشر تک یاں دل شکیبا چاہئےکب ملیں دلبر سے دیکھا چاہئےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- حق وفا کے جو ہم جتانے لگےآپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- حقیقت محرم اسرار سے پوچھمزا انگور کا مے خوار سے پوچھAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہمپر ہر اک خوبی میں داغ اک عیب کا پاتے ہیں ہمAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گاسینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- دل کو درد آشنا کیا تو نےدرد دل کو دوا کیا تو نےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- دھوم تھی اپنی پارسائی کیکی بھی اور کس سے آشنائی کیAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- رنج اور رنج بھی تنہائی کاوقت پہنچا مری رسوائی کاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- عشق کو ترک جنوں سے کیا غرضچرخ گرداں کو سکوں سے کیا غرضAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیںشادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہےکل بتا دے گی خزاں یہ کہ وطن کس کا ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- کر کے بیمار دی دوا تو نےجان سے پہلے دل لیا تو نےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میںمجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسےگر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- گو جوانی میں تھی کج رائی بہتپر جوانی ہم کو یاد آئی بہتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیںاک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیامنہ اسے ہم جا کے یہ دکھلائیں کیاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہےنہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پروہی اصرار ہے خطاؤں پرAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- آثار زوالAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- گدائی کی ترغیبAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- اے عیش و طرب تو نے جہاں راج کیاسلطاں کو گدا غنی کو محتاج کیاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- تقاضائے سنAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- نعتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- توحیدAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- سکوت درویش جاہلAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- عالم و جاہل میں کیا فرق ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- مرض پیری لا علاج ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- عشقAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- وقت کی مساعدتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- انقلاب روزگارAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- موجودہ ترقی کا انجامAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہےدشمن سے بھی نام تیرا جپواتی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- مکر و ریاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- مخالفت کا جواب خاموشی سے بہتر نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- ریفارم کی حدAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- سختی کا جواب نرمی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- مناجات بیوہAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- حب وطنAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- نشاط امیدAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیاتٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہر ہلاہل سربسرAltaf Hussain Hali (1837–1914)