Poetry
- جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہےاثر گردش ایام سے جی ڈرتا ہےاختر انصاری اکبرآبادی
- دور تک روشنی ہے غور سے دیکھموت بھی زندگی ہے غور سے دیکھاختر انصاری اکبرآبادی
- رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدمہاں مرے عزم جواں اور ذرا تیز قدماختر انصاری اکبرآبادی
- رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیںکون ہے اپنے ہوش میں ظالم کس کا گریباں چاک نہیںاختر انصاری اکبرآبادی
- زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہامگر نگاہ نے اس انجمن میں کیا نہ کہااختر انصاری اکبرآبادی
- زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روزمیں سنواروں گا تری زلف پریشاں اک روزاختر انصاری اکبرآبادی
- سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کوہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کواختر انصاری اکبرآبادی
- شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھوداستانوں کے اب عنوان بدل کر دیکھواختر انصاری اکبرآبادی
- شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کروپیو تو بزم میں فکر و نظر کی بات کرواختر انصاری اکبرآبادی
- ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تکمجھ کو حیرت رہی انجمن میں تری کیوں ہیں خاموش اہل زباں آج تکاختر انصاری اکبرآبادی
- فسردہ ہو کے میخانے سے نکلےیہاں بھی اپنے بیگانے سے نکلےاختر انصاری اکبرآبادی
- کوشش پیہم کو سعیٔ رائیگاں کہتے رہوہم چلے اب تم ہماری داستاں کہتے رہواختر انصاری اکبرآبادی
- کون سنتا ہے صرف ذات کی باتلب پہ ہے میرے کائنات کی باتاختر انصاری اکبرآبادی
- کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلےکون آیا تھا تری بزم میں ہم سے پہلےاختر انصاری اکبرآبادی
- لٹاؤ جان تو بنتی ہے بات کس نے کہایہ بزم عشق میں راز حیات کس نے کہااختر انصاری اکبرآبادی
- ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کربہار آ تو گئی رنگ و بو کی بات نہ کراختر انصاری اکبرآبادی
- نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیےقلم سے کیا حکایات زمین و آسماں لکھیےاختر انصاری اکبرآبادی
- نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیںکہ منزلوں کے چراغ اب تک انتظار میں ہیںاختر انصاری اکبرآبادی
- نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھونظر والوں تمہیں کرنا ہے اب دنیا میں کیا سمجھواختر انصاری اکبرآبادی
- نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانابہت دشوار ہے چڑھتے ہوئے طوفاں کا تھم جانااختر انصاری اکبرآبادی
- ہر لمحہ عطا کرتا ہے پیمانہ سا اک شخصآنکھوں میں لیے بیٹھا ہے مے خانہ سا اک شخصاختر انصاری اکبرآبادی
- یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھااب وہ چکناچور پڑا ہے جس شیشے میں بال نہ تھااختر انصاری اکبرآبادی
- یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورتقابل دید ہوئی ہے گل تر کی صورتاختر انصاری اکبرآبادی
- یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلےنظر کچھ اور تھی موج شراب سے پہلےاختر انصاری اکبرآبادی
- یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیںاب مرے زیر قدم کاہکشاں ہے کہ نہیںاختر انصاری اکبرآبادی
- زمین و اہل زمیں کے بنانے والے سنترا یہ ڈھنگ ہے کتنا عجیب اور نیارااختر انصاری اکبرآبادی