Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہےاثر گردش ایام سے جی ڈرتا ہےاختر انصاری اکبرآبادی
  2. دور تک روشنی ہے غور سے دیکھموت بھی زندگی ہے غور سے دیکھاختر انصاری اکبرآبادی
  3. رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدمہاں مرے عزم جواں اور ذرا تیز قدماختر انصاری اکبرآبادی
  4. رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیںکون ہے اپنے ہوش میں ظالم کس کا گریباں چاک نہیںاختر انصاری اکبرآبادی
  5. زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہامگر نگاہ نے اس انجمن میں کیا نہ کہااختر انصاری اکبرآبادی
  6. زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روزمیں سنواروں گا تری زلف پریشاں اک روزاختر انصاری اکبرآبادی
  7. سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کوہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کواختر انصاری اکبرآبادی
  8. شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھوداستانوں کے اب عنوان بدل کر دیکھواختر انصاری اکبرآبادی
  9. شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کروپیو تو بزم میں فکر و نظر کی بات کرواختر انصاری اکبرآبادی
  10. ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تکمجھ کو حیرت رہی انجمن میں تری کیوں ہیں خاموش اہل زباں آج تکاختر انصاری اکبرآبادی
  11. فسردہ ہو کے میخانے سے نکلےیہاں بھی اپنے بیگانے سے نکلےاختر انصاری اکبرآبادی
  12. کوشش پیہم کو سعیٔ رائیگاں کہتے رہوہم چلے اب تم ہماری داستاں کہتے رہواختر انصاری اکبرآبادی
  13. کون سنتا ہے صرف ذات کی باتلب پہ ہے میرے کائنات کی باتاختر انصاری اکبرآبادی
  14. کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلےکون آیا تھا تری بزم میں ہم سے پہلےاختر انصاری اکبرآبادی
  15. لٹاؤ جان تو بنتی ہے بات کس نے کہایہ بزم عشق میں راز حیات کس نے کہااختر انصاری اکبرآبادی
  16. ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کربہار آ تو گئی رنگ و بو کی بات نہ کراختر انصاری اکبرآبادی
  17. نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیےقلم سے کیا حکایات زمین و آسماں لکھیےاختر انصاری اکبرآبادی
  18. نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیںکہ منزلوں کے چراغ اب تک انتظار میں ہیںاختر انصاری اکبرآبادی
  19. نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھونظر والوں تمہیں کرنا ہے اب دنیا میں کیا سمجھواختر انصاری اکبرآبادی
  20. نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانابہت دشوار ہے چڑھتے ہوئے طوفاں کا تھم جانااختر انصاری اکبرآبادی
  21. ہر لمحہ عطا کرتا ہے پیمانہ سا اک شخصآنکھوں میں لیے بیٹھا ہے مے خانہ سا اک شخصاختر انصاری اکبرآبادی
  22. یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھااب وہ چکناچور پڑا ہے جس شیشے میں بال نہ تھااختر انصاری اکبرآبادی
  23. یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورتقابل دید ہوئی ہے گل تر کی صورتاختر انصاری اکبرآبادی
  24. یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلےنظر کچھ اور تھی موج شراب سے پہلےاختر انصاری اکبرآبادی
  25. یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیںاب مرے زیر قدم کاہکشاں ہے کہ نہیںاختر انصاری اکبرآبادی
  26. زمین و اہل زمیں کے بنانے والے سنترا یہ ڈھنگ ہے کتنا عجیب اور نیارااختر انصاری اکبرآبادی