Poetry
- آنکھ تو ان پڑھ ہے اور نادان ہےدل کی خواہش ایک ہی انسان ہےAamir Ata (b. 1994)
- اب وہ سب کچھ کر رہے ہیں دوستی کی آڑ میںغیر ممکن تھا جو شاید دشمنی کی آڑ میںAamir Ata (b. 1994)
- اس طرح تو لگ رہا ہے چاند بھی خطرے میں ہےاس سے مل کر میں نے جانا روشنی خطرے میں ہےAamir Ata (b. 1994)
- بتا تو اے چمن لایا کہاں سےتری خوشبو تو ملتی ہے فلاں سےAamir Ata (b. 1994)
- بنام عشق دل توڑا گیا ہےبنا کر پھر مجھے ڈھایا گیا ہےAamir Ata (b. 1994)
- بے حجابانہ وہ کل جب بر سر محفل گئےجتنے مرجھائے تھے چہرے ایک دم سے کھل گئےAamir Ata (b. 1994)
- پورے مجمع کو لاجواب کیاحسن پر اس نے جب خطاب کیاAamir Ata (b. 1994)
- پہلے اپنایا خار پھولوں کاتب کہیں پایا پیار پھولوں کاAamir Ata (b. 1994)
- خوشی کا ایک لمحہ چاہئے تھاگھڑی بھر ساتھ تیرا چاہئے تھاAamir Ata (b. 1994)
- سب کو اپنی طرح سمجھتی ہےیار تو بھی نہ کتنی بھولی ہےAamir Ata (b. 1994)
- سچ بتانا کہ میرے بن جاناںکیسے کٹتے ہیں تیرے دن جاناںAamir Ata (b. 1994)
- عشق میں اب خون پانی کیجیےنذر وحشت یہ جوانی کیجیےAamir Ata (b. 1994)
- عمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کرکیوں نہ لکھوں خود کو مجنوں میں سخنور کاٹ کرAamir Ata (b. 1994)
- کسی طرح تو اسے مار دوں جو باہر ہےوہ شخص کیسے مرے گا جو میرے اندر ہےAamir Ata (b. 1994)
- کسی کے ہجر کے سائے میں آ کھڑا ہوں میںعجیب دکھ ہے مرا چھاؤں میں جلا ہوں میںAamir Ata (b. 1994)
- نیچی نظر کشادہ جبیں درمیانہ قدگیسو دراز شیریں زباں حسن مستندAamir Ata (b. 1994)
- ہم تو روتے ہیں رونا خواہش کاوہ مزہ لے رہے ہیں بارش کاAamir Ata (b. 1994)
- یاد بھی اس کی خواب کی سی ہےایک لڑکی حجاب کی سی ہےAamir Ata (b. 1994)