Poetry
- آہ بھی حرف دعا ہو جیسےاک دکھی دل کی صدا ہو جیسےA G Josh (1928–2007)
- اتنا احسان تو ہم پر وہ خدارا کرتےاپنے ہاتھوں سے جگر چاک ہمارا کرتےA G Josh (1928–2007)
- اک ذرا تم سے شناسائی ہوئیشہر بھر میں میری رسوائی ہوئیA G Josh (1928–2007)
- جب کبھی ذکر یار کا آیاایک جھونکا بہار کا آیاA G Josh (1928–2007)
- جینا کب تک محال ہوگاآخر اک دن وصال ہوگاA G Josh (1928–2007)
- چاندنی رات میں اندھیرا تھااس طرح بے بسی نے گھیرا تھاA G Josh (1928–2007)
- زخم کھاتے ہیں اور مسکراتے ہیں ہمحوصلہ اپنا خود آزماتے ہیں ہمA G Josh (1928–2007)
- سر راہے کبھی کبھار سہیرس بھری اک نگاہ یار سہیA G Josh (1928–2007)
- سونا سونا دل کا مجھے نگر لگتا ہےاپنے سائے سے بھی آج تو ڈر لگتا ہےA G Josh (1928–2007)
- شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلےدکھائی دی مجھے تعبیر خواب سے پہلےA G Josh (1928–2007)
- کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگاکچھ خموشی کا بھی سبب ہوگاA G Josh (1928–2007)
- گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دنایسا لگا بسر ہوئے جنت میں چار دنA G Josh (1928–2007)
- ممکن ہے شب ہجر دعا کا نہ اثر ہوہے رات وہ کیا رات کہ جس کی نہ سحر ہوA G Josh (1928–2007)
- موت بھی میری دسترس میں نہیںاور جینا بھی اپنے بس میں نہیںA G Josh (1928–2007)
- نہ سوچنا کہ زمانے سے ڈر گئے ہم بھیتری تلاش میں غیروں کے گھر گئے ہم بھیA G Josh (1928–2007)
- ہر ملاقات میں لگتے ہیں وہ بیگانے سےفائدہ کیا ہے بھلا ایسوں کے یارانے سےA G Josh (1928–2007)