Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھیپھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھیJaun Elia (1931–2002)
  2. ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھےجانے کہاں سے آئے ہیں جانے کہاں کے تھےJaun Elia (1931–2002)
  3. ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیںکہ اس گلی میں گئے اب زمانے ہو گئے ہیںJaun Elia (1931–2002)
  4. ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیںبے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیںJaun Elia (1931–2002)
  5. ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیراس کے بغیر اس کی تمنا کئے بغیرJaun Elia (1931–2002)
  6. ہم رہے پر نہیں رہے آبادیاد کے گھر نہیں رہے آبادJaun Elia (1931–2002)
  7. ہم کہاں اور تم کہاں جاناںہیں کئی ہجر درمیاں جاناںJaun Elia (1931–2002)
  8. ہو کا عالم ہے یہاں نالہ گروں کے ہوتےشہر خاموش ہے شوریدہ سروں کے ہوتےJaun Elia (1931–2002)
  9. ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گےہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گےJaun Elia (1931–2002)
  10. ہے عجب حال یہ زمانے کایاد بھی طور ہے بھلانے کاJaun Elia (1931–2002)
  11. ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میںجانے یہ کون آ رہا مجھ میںJaun Elia (1931–2002)
  12. یاد اسے انتہائی کرتے ہیںسو ہم اس کی برائی کرتے ہیںJaun Elia (1931–2002)
  13. یادوں کا حساب رکھ رہا ہوںسینے میں عذاب رکھ رہا ہوںJaun Elia (1931–2002)
  14. یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیامحبت زک اٹھا کر آئی تھی کیاJaun Elia (1931–2002)
  15. یہ پیہم تلخ کامی سی رہی کیامحبت زہر کھا کے آئی تھی کیاJaun Elia (1931–2002)
  16. یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گریہم جب بھی سائے میں بیٹھے دل پر اک دیوار گریJaun Elia (1931–2002)
  17. تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھےمیری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیںJaun Elia (1931–2002)
  18. تمہاری یاد مرے دل کا داغ ہے لیکنسفر کے وقت تو بے طرح یاد آتی ہوJaun Elia (1931–2002)
  19. تمہارے نام تمہارے نشاں سے بے سروکارتمہاری یاد کے موسم گزرتے جاتے ہیںJaun Elia (1931–2002)
  20. چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیںاور یہ سب دریچہ ہائے خیالJaun Elia (1931–2002)
  21. دھند چھائی ہوئی ہے جھیلوں پراڑ رہے ہیں پرند ٹیلوں پرJaun Elia (1931–2002)
  22. مجھ سے پہلے کے دناب بہت یاد آنے لگے ہیں تمہیںJaun Elia (1931–2002)
  23. مجھے تم اپنی بانہوں میں جکڑ لو اور میں تم کوکسی بھی دل کشا جذبے سے یکسر نا شناسانہJaun Elia (1931–2002)
  24. نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیJaun Elia (1931–2002)
  25. وہ کتاب حسن وہ علم و ادب کی طالبہوہ مہذب وہ مؤدب وہ مقدس راہبہJaun Elia (1931–2002)
  26. ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تمہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
  27. یہ کتابوں کی صف بہ صف جلدیںکاغذوں کا فضول استعمالJaun Elia (1931–2002)
  28. برس گزرے تمہیں سوئے ہوئےاٹھ جاؤ سنتی ہو اب اٹھ جاؤJaun Elia (1931–2002)
  29. بساط زندگی تو ہر گھڑی بچھتی ہے اٹھتی ہےیہاں پر جتنے خانے جتنے گھر ہیںJaun Elia (1931–2002)
  30. چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گاان کی لذت اور اذیت سے میں اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گاJaun Elia (1931–2002)
  31. سنا ہے تم نے اپنے آخری لمحوں میں سمجھا تھاکہ تم میری حفاظت میں ہو میرے بازوؤں میں ہوJaun Elia (1931–2002)
  32. کون آیا ہےکوئی نہیں آیا ہے پاگلJaun Elia (1931–2002)
  33. میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوںشاید جان جاں شایدJaun Elia (1931–2002)
  34. ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیںاپنی حالت تباہ کی جائےJaun Elia (1931–2002)
  35. ساری دنیا کے غم ہمارے ہیںاور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیںJaun Elia (1931–2002)
  36. مستقل بولتا ہی رہتا ہوںکتنا خاموش ہوں میں اندر سےJaun Elia (1931–2002)
  37. میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بسخود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیںJaun Elia (1931–2002)
  38. میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناباس کا بے حد لحاظ کیجئے گاJaun Elia (1931–2002)