Poetry

Poet
Meter
  1. جذبۂ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیںاپنی جانب کوئی کھینچے لیے جاتا ہے ہمیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  2. جس کے طالب ہیں وہ مطلوب کہیں بیٹھ رہامنتظر ہم کو بٹھا خوب کہیں بیٹھ رہاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  3. جگر خوں ہو کے باہر دیدۂ گریان آوے گایہی رونا رہا تو آج کل طوفان آوے گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  4. جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہماے خضر تصور ترے قربان گئے ہمQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  5. جوش گریہ یہ دم رخصت یار آئے نظرابر جوشاں کا بندھا جیسے کہ تار آئے نظرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  6. جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگاہمارا شعر بھی مشہور ہوگاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  7. چھیڑنے ہم کو یار آج آیابارے کچھ چہل پر مزاج آیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  8. حسن اے جان نہیں رہنے کاپھر یہ احسان نہیں رہنے کاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  9. دام میں ہم کو لاتے ہو تم دل اٹکا ہے اور کہیںشعر پڑھانے ہم سے اور مضمون گٹھا ہے اور کہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  10. درپئے عمر رفتہ ہوں یا ربہر دم از خود گزشتہ ہوں یا ربQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  11. در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنایا وہ راتوں کو سدا بھیس بدل کر آناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  12. درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوںحسب حال اس کو کئی شعر سنا رہتا ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  13. دل کو اے عشق سوئے زلف سیہ فام نہ بھیجرہزنوں میں تو مسافر کو سر شام نہ بھیجQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  14. دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گاشمع ساں محفل جاناں ہی میں جل جاؤں گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  15. دیکھیو اس کی ذرا آنکھ دکھانے کا مزاچتونوں میں ہے بھرا سارے زمانے کا مزاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  16. رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھادل کو مجھ سے مجھے کچھ دل سے سروکار نہ تھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  17. رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھاخواب کا تو کہیں خیال نہ تھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  18. سب چلے تیرے آستاں کو چھوڑبد زباں اب تو اس زباں کو چھوڑQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  19. سب کہتے ہیں دیکھ اس کو سر راہ زمیں پرکس راہ سے آیا یہ اتر ماہ زمیں پرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  20. سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیاسوچ ہے ہر دم یہی ہم کو کہ ہم نے کیا کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  21. شب ہجراں میں مت پوچھو کہ کن باتوں میں رہتا ہوںتصور باندھ اس کا صبح تک کچھ کچھ میں کہتا ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  22. صوت بلبل دل نالاں نے سنائی مج کوسیر گل دیدۂ گریاں نے دکھائی مج کوQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  23. عمل کچھ ایسا کیا عدو نے کہ عشق باہم لگا چھڑایاالٰہی چھٹ جائیں اس کی نبضیں ملاپ جس نے مرا چھڑایاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  24. غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپناتو ہنس کے وہ بولے ہے میاں فکر کر اپناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  25. کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسراہے تو ترا ہی عکس نمایاں ہے دوسراQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  26. کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیاحرف سخاوت آہ زمانے سے اٹھ گیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  27. کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیاپر دیکھنے کا اس کے کہیں ڈھب نہ بن گیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  28. کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیاہنس کے یوں کہنے لگا کچھ آنکھ میں کیا پڑ گیا؟Qalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  29. کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیاخواب میں آنے کی بھی تم نے قسم کھائی کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  30. کیوں کر گلی میں اس کی میں اے ہم رہاں رہوںاس آرزوئے دل پہ ہے واں تو نہ ہاں نہ ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  31. کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کاحسن مرقع ہے طلسمات کاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  32. گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیاکیا برا مان کے کہتا ہے بھلا تجھ کو کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  33. گرمی مرے کیوں نہ ہو سخن میںاک آگ سی پھنک رہی ہے تن میںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  34. گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپناقید خانہ ہے عجب گنبد بے در اپناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  35. گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گاہاں مگر دشت عدم ہی کو نکل جاؤں گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  36. لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہرنہیں لگتی مری تالو سے زباں آٹھ پہرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  37. مثل آئینہ با صفا ہیں ہمدیکھنے ہی کے آشنا ہیں ہمQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  38. مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگارہتا ہوں روز و شب میں اسی گھات میں لگاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  39. میں کہا ایک ادا کر تو لگا کہنے اوں ہوںدیکھ ٹک آنکھ چرا کر تو لگا کہنے اوں ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  40. نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوازور یہ پر درد اپنا مطلع دیواں ہواQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  41. نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایاشرارت سے جی جس نے میرا جلایاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  42. واں سے گھر آ کے کہاں سونا تھاصبح تک یاد تھی اور رونا تھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  43. واں ہے یہ بد گمانی جاوے حجاب کیوں کردو دن کے واسطے ہو کوئی خراب کیوں کرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  44. وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیںواں لگا دل جہاں لگاؤ نہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  45. ہر چند بھرے دل میں ہیں لاکھوں ہی گلے پرکیا کہئے کہ کھلتا نہیں منہ وقت ملے پرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  46. ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیںرہ نہیں سکتے تو ناچار چلے آتے ہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  47. ہمیں دیکھے سے وہ جیتا ہے اور ہم اس پہ مرتے تھےیہی راتیں تھیں اور باتیں تھیں وہ دن کیا گزرتے تھےQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  48. ہے تیری ہی کائنات جی میںجی تجھ سے ہے تیری ذات جی میںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  49. ہے یہ گل کی اور اس کی آب میں فرقجیسے پانی میں اور گلاب میں فرقQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  50. یاد کر وہ حسن سبز اور انکھڑیاں متوالیاںکاٹتے ہیں رو ہی رو ساون کی راتیں کالیاںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)