Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. نہ اس کو بھول پائے ہیں نہ ہم نے یاد رکھا ہےدل برباد کو اس طرح سے آباد رکھا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  2. نہ کوئی بات کہنی ہے نہ کوئی کام کرنا ہےاور اس کے بعد کافی دیر تک آرام کرنا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  3. نہ کوئی زخم لگا ہے نہ کوئی داغ پڑا ہےیہ گھر بہار کی راتوں میں بے چراغ پڑا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  4. نہ گماں رہنے دیا ہے نہ یقیں رہنے دیاراستہ کوئی کھلا ہم نے نہیں رہنے دیاZafar Iqbal (b. 1932)
  5. نہ گھاٹ ہے کوئی اپنا نہ گھر ہمارا ہواقیام اب کے سر رہگزر ہمارا ہواZafar Iqbal (b. 1932)
  6. نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوںسمجھ تو لیتا ہوں سارے نہیں سمجھتا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
  7. نہیں کہ دل میں ہمیشہ خوشی بہت آئیکبھی ترستے رہے اور کبھی بہت آئیZafar Iqbal (b. 1932)
  8. وہ ایک طرح سے اقرار کرنے آیا تھاجو اتنی دور سے انکار کرنے آیا تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  9. وہی مرے خس و خاشاک سے نکلتا ہےجو رنگ سا تری پوشاک سے نکلتا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  10. ویراں تھی رات چاند کا پتھر سیاہ تھایا پردۂ نگاہ سراسر سیاہ تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  11. ہزار بندش اوقات سے نکلتا ہےیہ دن نہیں جو مری رات سے نکلتا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  12. ہمارے سر سے وہ طوفاں کہیں گزر گئے ہیںچڑھے ہوئے تھے جو دریا سبھی اتر گئے ہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  13. ہم نے آواز نہ دی برگ و نوا ہوتے ہوئےاور ملنے نہ گئے اس کا پتا ہوتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
  14. ہمیں بھی مطلب و معنی کی جستجو ہے بہتحریف حرف مگر اب کے دو بہ دو ہے بہتZafar Iqbal (b. 1932)
  15. ہوا بدل گئی اس بے وفا کے ہونے سےوگرنہ خلق تو خوش تھی خدا کے ہونے سےZafar Iqbal (b. 1932)
  16. ہوائے وادئ دشوار سے نہیں رکتامسافر اب ترے انکار سے نہیں رکتاZafar Iqbal (b. 1932)
  17. ہے اور بات بہت میری بات سے آگےزمین ذرہ ہے اس کائنات سے آگےZafar Iqbal (b. 1932)
  18. ہے کوئی اختیار دنیا پرنہ ہمیں اعتبار دنیا پرZafar Iqbal (b. 1932)
  19. یقیں کی خاک اڑاتے گماں بناتے ہیںمگر یہ طرفہ عمارت کہاں بناتے ہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  20. یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجودپوری طرح مرا نہیں مرنے کے باوجودZafar Iqbal (b. 1932)
  21. یوں بھی نہیں کہ شام و سحر انتظار تھاکہتے نہیں تھے منہ سے مگر انتظار تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  22. یوں بھی ہوتا ہے کہ یک دم کوئی اچھا لگ جائےبات کچھ بھی نہ ہو اور دل میں تماشا لگ جائےZafar Iqbal (b. 1932)
  23. یوں تو کس چیز کی کمی ہےہر شے لیکن بکھر گئی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  24. یوں تو ہے زیر نظر ہر ماجرا دیکھا ہواپھر نہیں دیکھا ہے وہ رنگ ہوا دیکھا ہواZafar Iqbal (b. 1932)
  25. یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کومگر کیا ہو گیا ہوں اور کیا ہونا تھا مجھ کوZafar Iqbal (b. 1932)
  26. یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملاکسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملاZafar Iqbal (b. 1932)
  27. یہ بات الگ ہے مرا قاتل بھی وہی تھااس شہر میں تعریف کے قابل بھی وہی تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  28. یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہوZafar Iqbal (b. 1932)
  29. یہ زمین آسمان کا ممکننہیں سارے جہان کا ممکنZafar Iqbal (b. 1932)
  30. یہ نہیں کہتا کہ دوبارہ وہی آواز دےکوئی آسانی تو پیدا کر کوئی آواز دےZafar Iqbal (b. 1932)
  31. اب کے اس بزم میں کچھ اپنا پتہ بھی دیناپاؤں پر پاؤں جو رکھنا تو دبا بھی دیناZafar Iqbal (b. 1932)
  32. پھر پچھلے پہر آئنۂ اشک میں ظفرؔلرزاں رہی وہ سانولی صورت سویر تکZafar Iqbal (b. 1932)
  33. پھر جا رکے گی بجھتے خرابوں کے دیس میںسونی سلگتی سوچتی سنسان سی سڑکZafar Iqbal (b. 1932)
  34. تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گیعید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گیZafar Iqbal (b. 1932)
  35. راستے ہیں کھلے ہوئے سارےپھر بھی یہ زندگی رکی ہوئی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  36. رخ پھیر کر جو ابر شبانہ میں چھپ گیاجی میں پھرا کرے گی اسی چاند کی چمکZafar Iqbal (b. 1932)
  37. سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرامیں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطرZafar Iqbal (b. 1932)
  38. شب بھر رواں رہی گل مہتاب کی مہکپو پھوٹتے ہی خشک ہوا چشمۂ فلکZafar Iqbal (b. 1932)
  39. گھر نیا برتن نئے کپڑے نئےان پرانے کاغذوں کا کیا کریںZafar Iqbal (b. 1932)
  40. موج ہوا سے کانپ گیا روح کا چراغسیل صدا میں ڈوب گئی یاد کی دھنکZafar Iqbal (b. 1932)
  41. میں بکھر جاؤں گا زنجیر کی کڑیوں کی طرحاور رہ جائے گی اس دشت میں جھنکار مریZafar Iqbal (b. 1932)
  42. وہ بہت چالاک ہے لیکن اگر ہمت کریںپہلا پہلا جھوٹ ہے اس کو یقیں آ جائے گاZafar Iqbal (b. 1932)
  43. وہ چہرہ ہاتھ میں لے کر کتاب کی صورتہر ایک لفظ ہر اک نقش کی ادا دیکھوںZafar Iqbal (b. 1932)
  44. یوں محبت سے نہ دے میری محبت کا جوابیہ سزا سخت ہے تھوڑی سی رعایت کر دےZafar Iqbal (b. 1932)