Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. میں سمجھا جب جھلکتا سامنے جام شراب آیامرا منہ چومنے شاید مرا مست شباب آیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  2. مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہےمیرے ساقی تو رہے آباد مے خانہ رہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  3. نظر آتی ہے دور کی صورتآنکھ میں ہے حضور کی صورتRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  4. نہ آیا ہمیں عشق کرنا نہ آیامرے عمر بھر اور مرنا نہ آیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  5. نہ تارے افشاں نہ کہکشاں ہے نمونہ ہنستی ہوئی جبیں کاکھلا ہے پرچم گڑا ہے جھنڈا فلک پر اس آہ آتشیں کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  6. نہ راس آئی ہم کو جوانی ہماریکٹے کیا برس زندگانی ہماریRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  7. نہ شبستاں ہے نہ اب شمع شبستاں کوئیگھر کا یہ حال ہے جیسے ہو بیاباں کوئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  8. نہیں چھپتا ترے عتاب کا رنگکہ بدلنے لگا نقاب کا رنگRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  9. نیا کھلا ہے شگوفہ کوئی بہار میں کیاگندھا ہوا ہے مرا دل کسی کے ہار میں کیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  10. وعدہ تھا جس کا حشر میں وہ بات بھی تو ہویہ سن کے کس ادا سے کہا رات بھی تو ہوRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  11. وعدہ کبھی سچا کوئی کرتا ہی نہیں ہےاندیشۂ فردا تو گزرتا ہی نہیں ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  12. وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیںیہ مے فروش تو ٹوپی اتار لیتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  13. وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتاکس گھر میں خوشی ہوتی ہے ماتم نہیں ہوتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  14. وہ گل ہیں نہ ان کی وہ ہنسی ہےدیکھو جدھر اس سی پڑی ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  15. وہ ہوں مٹھی میں ان کی دل ہو ہم ہوںیوں ہی پردہ سا کچھ حائل ہو ہم ہوںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  16. ہمارے دل میں کوئی آرزو نہیں باقیہمارے پھول میں اب رنگ و بو نہیں باقیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  17. ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام راتجاگیں تمام رات جگائیں تمام راتRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  18. ہم سے وفا کریں کہ وہ ہم پر جفا کریںپائیں خدا سے ہم جو بتوں سے دغا کریںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  19. ہم غریبوں پر جفا اچھی نہیںبیکسوں کی بد دعا اچھی نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  20. ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیاکہ بزم مے میں کوئی پارسا اب تک نہیں آیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  21. ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعدآج نازک سے لب ساقی ہیں پیمانے کے بعدRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  22. ہنگام نزع گریہ یہاں بے کسی کا تھاتم ہنس پڑے یہ کون سا موقع ہنسی کا تھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  23. ہو کے بیتاب بدل لیتے تھے اکثر کروٹاب یہ ہے ضعف کہ قابو سے ہے باہر کروٹRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  24. ہوگی وہ دل میں جو ٹھانی جائے گیکیا ہماری بات مانی جائے گیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  25. یہ بلا میرے سر چڑھی ہی نہیںمیں نے کچے گھڑے کی پی ہی نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  26. یہ جتنی دیر ہوئی شیخ کو وضو کرتےہم اتنی دیر میں خالی خم و سبو کرتےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  27. یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کیراتیں ہیں ان میں بند ہماری شباب کیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  28. یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیںہمارے ہی سب بل نکالے ہوئے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  29. یہ کافر بت جنہیں دعویٰ ہے دنیا میں خدائی کاملیں محشر میں مجھ عاصی کو صدقہ کبریائی کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  30. یہ کوئی بات ہے سنتا نہ باغباں میریکہاں اثر میں وہ ڈوبی ہوئی فغاں میریRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  31. یہ کہاں سے ہم گئے ہیں کہاں کہیں کیا تری تگ و تاز میںکہ یہ آسمان و زمیں جہاں نہ نشیب میں نہ فراز میںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  32. یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھاجلے آشیانے کچھ اس طرح کہ ہر ایک دل سے دھواں اٹھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  33. یہ گوارا کہ مرا دست تمنا باندھےاپنی محرم کو نہ کس کر کوئی اتنا باندھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  34. یہی ہے ان کی نزاکت تو حال کیا ہوگامجھے یہ ڈر ہے کہ وقت وصال کیا ہوگاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  35. صبح محشر بھی گوارا نہیں فرقت میریمجھ سے رہ رہ کے لپٹ جاتی ہے تربت میںRiyaz Khairabadi (1853–1934)