Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. مجھے ڈبو کے بہت شرمسار رہتی ہےوہ ایک موج جو دریا کے پار رہتی ہےRahat Indori (1950–2020)
  2. محبتوں کے سفر پر نکل کے دیکھوں گایہ پل صراط اگر ہے تو چل کے دیکھوں گاRahat Indori (1950–2020)
  3. مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھادیر سے نکلا تو میرے راستے میں دار تھاRahat Indori (1950–2020)
  4. میرے اشکوں نے کئی آنکھوں میں جل تھل کر دیاایک پاگل نے بہت لوگوں کو پاگل کر دیاRahat Indori (1950–2020)
  5. میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دوآسماں لائے ہو لے آؤ زمیں پر رکھ دوRahat Indori (1950–2020)
  6. میرے کاروبار میں سب نے بڑی امداد کیداد لوگوں کی گلا اپنا غزل استاد کیRahat Indori (1950–2020)
  7. میں لاکھ کہہ دوں کہ آکاش ہوں زمیں ہوں میںمگر اسے تو خبر ہے کہ کچھ نہیں ہوں میںRahat Indori (1950–2020)
  8. ندی نے دھوپ سے کیا کہہ دیا روانی میںاجالے پاؤں پٹکنے لگے ہیں پانی میںRahat Indori (1950–2020)
  9. نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گاہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گاRahat Indori (1950–2020)
  10. نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتاتو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتاRahat Indori (1950–2020)
  11. وہ اک اک بات پہ رونے لگا تھاسمندر آبرو کھونے لگا تھاRahat Indori (1950–2020)
  12. ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتےجان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتےRahat Indori (1950–2020)
  13. ہم نے خود اپنی رہنمائی کیاور شہرت ہوئی خدائی کیRahat Indori (1950–2020)
  14. ہوں لاکھ ظلم مگر بد دعا نہیں دیں گےزمین ماں ہے زمیں کو دغا نہیں دیں گےRahat Indori (1950–2020)
  15. یوں صدا دیتے ہوئے تیرے خیال آتے ہیںجیسے کعبے کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
  16. یہ خاک زادے جو رہتے ہیں بے زبان پڑےاشارہ کر دیں تو سورج زمیں پہ آن پڑےRahat Indori (1950–2020)
  17. یہ سرد راتیں بھی بن کر ابھی دھواں اڑ جائیںوہ اک لحاف میں اوڑھوں تو سردیاں اڑ جائیںRahat Indori (1950–2020)
  18. اک ملاقات کا جادو کہ اترتا ہی نہیںتری خوشبو مری چادر سے نہیں جاتی ہےRahat Indori (1950–2020)
  19. بوتلیں کھول کر تو پی برسوںآج دل کھول کر بھی پی جائےRahat Indori (1950–2020)
  20. تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے لیکنآنے جانے میں کرایہ بھی بہت لگتا ہےRahat Indori (1950–2020)
  21. تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھامجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھاRahat Indori (1950–2020)
  22. سورج ستارے چاند مرے ساتھ میں رہےجب تک تمہارے ہاتھ مرے ہاتھ میں رہےRahat Indori (1950–2020)
  23. شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہمآندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہےRahat Indori (1950–2020)
  24. کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی اک ناؤ لیےچاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بیکاری ہےRahat Indori (1950–2020)
  25. میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگگیلی زمین کھود کے فرہاد ہو گئےRahat Indori (1950–2020)
  26. میں مر جاؤں تو میری ایک الگ پہچان لکھ دینالہو ث میری پیشانی پے ہندستان لکھ دیناRahat Indori (1950–2020)
  27. وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرامیں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیاRahat Indori (1950–2020)
  28. ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیںمحبت کی اسی مٹی کو ہندستان کہتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
  29. ہمارے میر تقی میرؔ نے کہا تھا کبھیمیاں یہ عاشقی عزت بگاڑ دیتی ہےRahat Indori (1950–2020)