Poetry
- کبھو دکھا کے کمر اور کبھو دہاں مجھ کوبہت بتنگ کیا تو نے اے میاں مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
- کدھر ابرو کی اس کے دھاک نہیںکون اس تیغ کا ہلاک نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرفمیں آج یک طرف ہوں ترے یار یک طرفQaem Chandpuri (1722–1793)
- کل اے آشوب نالہ آج نہیںآج ہنگامہ پر مزاج نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- کون سا دن کہ مجھے اس سے ملاقات نہیںلیک جی چاہے ہے جوں ملنے کو وہ بات نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- کیا میں کیا اعتبار میراخواری بس افتخار میراQaem Chandpuri (1722–1793)
- گو بہ نام اک زبان رکھتی ہے شمعکب ترا سا بیان رکھتی ہے شمعQaem Chandpuri (1722–1793)
- گو یاں نہ کسی کو آئے افسوسحالت تو ہے اپنی جائے افسوسQaem Chandpuri (1722–1793)
- گہ پیر شیخ گاہ مرید مغاں رہےاب تک تو آبرو سے نبھی ہے جہاں رہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- لائق وفا کے خلق و سزائے جفا ہوں میںجتنے ہیں یاں سو نیک ہیں جو کچھ برا ہوں میںQaem Chandpuri (1722–1793)
- لے چکو دل جو نگہ کو تو یہ دشوار نہیںلیک تم دیکھتے پھرتے ہو خریدار نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آجکل کیا ہے جو ملنا ہے مری جان تو مل آجQaem Chandpuri (1722–1793)
- محتسب سے صلاح کیجئے گامے کو چندے مباح کیجئے گاQaem Chandpuri (1722–1793)
- معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیںایسا گیا کہ پھیر نہ پائی خبر کہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھاپر آشنا کوئی دیکھا نہ مہرباں دیکھاQaem Chandpuri (1722–1793)
- میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصہ میں ٹل جاؤں گاہنس کے تم بات کرو گے میں بہل جاؤں گاQaem Chandpuri (1722–1793)
- ناصحا کر نہ اسے سی کے پشیماں مجھ کوکتنے ہی چاک ابھی کرنے ہیں گریباں مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
- نگاہوں سے نگاہیں سامنے ہوتے ہی جب لڑیاںیکایک کھل گئیں دونوں طرف سے دل کی کلجھڑیاںQaem Chandpuri (1722–1793)
- نہ بیم غم ہے نے شادی کی ہم امید کرتے ہیںقلندر ہیں جو پیش آ جائے سب کچھ دید کرتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- نہ پوچھ گریۂ خوں کا ترے ہے کیا باعثسبب تو اور نہیں کچھ مگر ترا باعثQaem Chandpuri (1722–1793)
- نہ پوچھو کہ قائمؔ کا کیا حال ہےکچھ اک ڈھیر ہڈیوں کا یا کھال ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میںکبھو جو روئے تھے خوں جم رہا ہے آنکھوں میںQaem Chandpuri (1722–1793)
- نہ کہہ کہ بے اثر انفاس سرد ہوتے ہیںمجھی سے کیا کوئی سب اہل درد ہوتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- نہیں بند قبا میں تن ہماراہے عریانی ہی پیراہن ہماراQaem Chandpuri (1722–1793)
- واشد کی دل کے اور کوئی راہ ہی نہیںجز یہ کہ آہ کیجئے سو آہ ہی نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیںہم اس بہروپ کو پہچانتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہےلیکن مرے بھی تاب کے لانے کو عشق ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- ہم ہیں جنہوں نے نام چمن بو نہیں کیاآئی صبا جدھر سے ادھر رو نہیں کیاQaem Chandpuri (1722–1793)
- ہو گر ایسے ہی مری شکل سے بیزار بہتتم سلامت رہو بندے کے خریدار بہتQaem Chandpuri (1722–1793)
- ہے بے اثر ایسی ہی جو اپنی کشش دلجی لے ہی کے چھوڑے گی یہ اک دن خلش دلQaem Chandpuri (1722–1793)
- یاں سدا نیش بلا وقف جگر ریشی ہےکیجے کیا جان مری عالم درویشی ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- یوں تو دنیا میں ہر اک کام کے استاد ہیں شیخپر جو کچھ آپ میں فن ہیں وہ کسے یاد ہیں شیخQaem Chandpuri (1722–1793)
- یوں ہی رنجش ہو اور گلا بھی یوں ہیہو جے ہر بات پر خفا بھی یوں ہیQaem Chandpuri (1722–1793)
- درد پی لیتے ہیں اور داغ پچا جاتے ہیںیاں بلانوش ہیں جو آئے چڑھا جاتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- مرا جی گو تجھے پیارا نہیں ہےپر اتنا بھی تو ناکارا نہیں ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- واقف نہیں ہم کہ کیا ہے بہترجز یہ کہ تری رضا ہے بہترQaem Chandpuri (1722–1793)
- ہم موئے پھرتے ہیں اور خواہش جاں ہے اس کواب تلک بھی وہی جینے کا گماں ہے اس کوQaem Chandpuri (1722–1793)