Poetry
- اس روشن صبح کے دامن میںاک سورج قہر کا چمکا تھاPirzada Qasim
- اس صف میں بھی سب دشمن ہیںاس صف میں بھی سب دشمن ہیںPirzada Qasim
- اک کبھی نہ بیتنے والی شباک ہاتھ نہ آنے والا دنPirzada Qasim
- جب راہیں سب مسدود ہوئیںسب نیست ہوئیں نابود ہوئیںPirzada Qasim
- قتل گاہ کی رونقحسب حال رکھنی ہےPirzada Qasim
- وقت رخصت وہ چپ تھیبس ہاتھوں میں گلدستہ تھاPirzada Qasim
- وہ جو زندگی کا قرار تھیوہی صبح نور کہاں گئیPirzada Qasim
- خزاں کی ابتدا سے انتہا تکسارا موسم ہی خزاں ہےPirzada Qasim
- مری بے خواب آنکھوں میںمری ویران آنکھوں میںPirzada Qasim
- بعد ایک مدت کےاجنبی سے چہروں میںPirzada Qasim
- خزاں موسم نہیں ہےایک لمحہ ہے کہ جس کی آرزو میںPirzada Qasim
- سنویہ یاد رکھنے کا ہنر آساں نہیں ہوتاPirzada Qasim
- میرے گھر کے آنگن میں توجانے پہچانے سب موسمPirzada Qasim
- میں بے قیمت تم بے قیمتپھرPirzada Qasim
- تمہیں جفا سے نہ یوں باز آنا چاہیئے تھاابھی کچھ اور مرا دل دکھانا چاہیئے تھاPirzada Qasim