Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. محرم کے ستارے ٹوٹتے ہیںپستان کے انار چھوٹتے ہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
  2. مر گئے پر بھی نہ ہو بوجھ کسی پر اپناروح کے ساتھ ہوا ہو تن لاغر اپناImdad Ali Bahr (1810–1878)
  3. میں اس بت کا وصل اے خدا چاہتا ہوںمرض عشق کا ہے دوا چاہتا ہوںImdad Ali Bahr (1810–1878)
  4. میں سیہ رو اپنے خالق سے جو نعمت مانگتااپنا منہ دھونے کو پہلے آب خجلت مانگتاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  5. میں گلا تم سے کروں اے یار کس کس بات کایہ کہانی دن کی ہو جائے نہ قصہ رات کاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  6. نفس سرکش کو قتل کر اے دلمستعد ہو جہاد پر اے دلImdad Ali Bahr (1810–1878)
  7. نہ کہہ حق میں بزرگوں کی کڑی باتکہیں گے لوگ چھوٹا منہ بڑی باتImdad Ali Bahr (1810–1878)
  8. نہیں ہونے کا یہ خون جگر بندنہ باندھی آستین آنکھوں پہ تر بندImdad Ali Bahr (1810–1878)
  9. وصل میں ذکر غیر کا نہ کروخوش کیا ہے تو پھر خفا نہ کروImdad Ali Bahr (1810–1878)
  10. وفا میں برابر جسے تول لیں گےاسے سلطنت بیچ کر مول لیں گےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  11. وقت آخر ہمیں دیدار دکھایا نہ گیاہم تو دنیا سے گئے آپ سے آیا نہ گیاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  12. وہ رشک مہر و قمر گھات پر نہیں آتاکبھی اندھیرے اجالے نظر نہیں آتاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  13. ہر طرف مجمع عاشقاں ہےتیرے دم کا یہ سارا سماں ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  14. ہم آج کل ہیں نامہ نویسی کی تاؤ پردن بھر کبوتروں کو بھگاتے ہیں باؤ پرImdad Ali Bahr (1810–1878)
  15. ہم خزاں کی اگر خبر رکھتےآشیانے میں پھول بھر رکھتےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  16. ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیںواقف نہیں عشرت کا ساماں کسے کہتے ہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
  17. ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیااجڑے ہوئے علاقے کے عامل ہوئے تو کیاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  18. ہمیں ناشاد نظر آتے ہیں دل شاد ہیں سبہمیں اس دور میں برباد ہیں آباد ہیں سببImdad Ali Bahr (1810–1878)
  19. یہ دل ہے تو آفت میں پڑتے رہیں گےیوں ہی ایڑیاں ہم رگڑتے رہیں گےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  20. آبلہ خار سر مژگاں نے پھوڑا سانپ کاسیلیٔ زلف رسا نے کلا توڑا سانپImdad Ali Bahr (1810–1878)
  21. آراستگی بڑی جلا ہےپتھر کی بغل میں آئنہ ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  22. بد طالعی کا علاج کیا ہوآزار بھی ہو تو لا دوا ہوImdad Ali Bahr (1810–1878)
  23. بشر روز ازل سے شیفتہ ہے شان و شوکت کاعناصر کے مرقع میں بھرا ہے نقش دولت کاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  24. جذب الفت نے دکھایا اثر اپنا الٹاآہ جب ہونٹھوں پر آئی تو کلیجہ الٹاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  25. خورشید رخوں کا سامنا ہےشبنم صفت آبرو ہوا ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  26. دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کیکہ آنکھوں میں پھرتی ہے صورت کسی کیImdad Ali Bahr (1810–1878)
  27. دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئےنئے سر سے پھر آگ بھڑکا گئےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  28. شکوہ نہ رقیبوں سے نہ جاناں سے گلا ہےمجھ کو فقط اپنی دل ناداں سے گلا ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  29. قدرداں کوئی نہ اسفل ہے نہ اعلیٰ اپنانہ زمین پر نہ فلک پر ہے ٹھکانا اپناImdad Ali Bahr (1810–1878)
  30. گیا جوانی کا ساتھ سب کچھ وہ گرمئ عشق اب کہاں ہےجو میں نے اس وقت آہ کی ہے بجھی ہوئی آگ کا دھواں ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  31. میرے آگے تذکرہ معشوق و عاشق کا برااگلی باتیں مجھ کو یاد آتی ہیں یہ چرچا براImdad Ali Bahr (1810–1878)
  32. یہ کیا کہا مجھے او بد زباں بہت اچھاسنا لی اور بھی دو گالیاں بہت اچھاImdad Ali Bahr (1810–1878)