Poetry
Poet
Meter
- داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوںرشک سے شمع کو جلاتا ہوںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- دلبر سے درد دل نہ کہوں ہائے کب تلکخاموش اس کے غم میں رہوں ہائے کب تلکTaban Abdul Hai (1715–1749)
- دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبحکیا کہوں میں کیا قیامت مجھ پہ تب لاتی ہے صبحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- رویا نہ ہوں جہاں میں گریباں کو اپنے پھاڑایسا نہ کوئی دشت ہے ظالم نہ کوئی اجاڑTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوںباراں ہو اور ہوا ہو سبزہ ہو اور ہم ہوںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیںکیا بلبلوں نے دیکھو دھومیں مچائیاں ہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کودن کو پھروں میں داد خواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کوTaban Abdul Hai (1715–1749)
- عزیزاں ستم گر نہ آیا مرے گھرنہ آیا مرے گھر عزیزاں ستم گرTaban Abdul Hai (1715–1749)
- عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہےمردہ دل وہ ہوتا ہے جو کہ شیح فانی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیںچاہنے والے کو ہوتا بھی ہے آرام کہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- غیر کے ہاتھ میں اس شوخ کا دامان ہے آجمیں ہوں اور ہاتھ مرا اور یہ گریبان ہے آجTaban Abdul Hai (1715–1749)
- قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہےتصور بھی چمن کا ہم کو بس ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرحساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے دیوانے کی طرحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہےکوئی زمانہ میں آرام سے رہا بھی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کسی گل میں نہیں پانے کی تو بوئے وفا ہرگزعبث اپنا دل اے بلبل چمن میں مت لگا ہرگزTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کعبہ ہے اگر شیخ کا مسجود خلائقہر بت ہے مرے دیر کا معبود خلائقTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کھوتا ہی نہیں ہے ہوس مطعم و ملبسیہ نفس ہوس ناک و بد آموز و مہوسTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشیہم کو رہنے ہی نہیں دیتا ہے ہرگز غم خوشیTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپناہوا معلوم یوں شاید کیا کم ان نے پیار اپناTaban Abdul Hai (1715–1749)
- لڑکا جو خوبرو ہے سو مجھ سے بچا نہیںوہ کون ہے کہ جس سے میں یارو ملا نہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہےکروں ترک دنیا تو ہمت نہیں ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہےکہ ہر جلوے میں اس کے کیا کہوں اور ہی جھمکا ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاںکرتا ہے میرے قتل کو تو کیوں شتابیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویاراتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نمکیں حرف ہے مرا یہ فصیحکل شئ من الملیح ملیحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نہ کوئی دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپناسناؤں کس کو غم اپنا الم اپنا فغاں اپناTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نہ مرے پاس عزت رمضاںنہ کبھو کی عبادت رمضاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نہیں تم مانتے میرا کہا جیکبھی تو ہم بھی سمجھیں گے بھلا جیTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبتطائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبتTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کےستم گر بے مروت بے وفا بے رحم اچپل کےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ہے آرزو یہ جی میں اس کی گلی میں جاویںاور خاک اپنے سر پر من مانتی اڑاویںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرحمنتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔتو پھر اس سے جدا نہ ہوں تاباںؔTaban Abdul Hai (1715–1749)
- یاں تلک کے ہے ترے ہجر میں فریاد کہ بسنہ ہوا تو بھی کبھی ہائے یہ ارشاد کہ بسTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ان بتوں کو تو مرے ساتھ محبت ہوتیکاش بنتا میں برہمن ہی مسلماں کے عوضTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تو کون ہے اے واعظ جو مجھ کو ڈراتا ہےمیں کی بھی ہیں تو کی ہیں اللہ کی تقصیریںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- حرم کو چھوڑ رہوں کیوں نہ بت کدے میں شیخکہ یاں ہر ایک کو ہے مرتبہ خدائی کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- خدا دیوے اگر قدرت مجھے تو ضد ہے زاہد کیجہاں تک مسجدیں ہیں میں بناؤں توڑ بت خانہTaban Abdul Hai (1715–1749)
- دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔکیا مرے ہجر میں جیتا ہے وہ غم ناک ہنوزTaban Abdul Hai (1715–1749)
- زاہد ترا تو دین سراسر فریب ہےرشتے سے تیرے سبحہ کے زنار ہی بھلاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- صحبت شیخ میں تو رات کو جایا مت کروہ سکھا دے گا تجھے جان نماز معکوسTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کرتا ہے گر تو بت شکنی تو سمجھ کے کرشاید کہ ان کے پردے میں زاہد خدا بھی ہوTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیںہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کربیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کرTaban Abdul Hai (1715–1749)
- محفل کے بیچ سن کے مرے سوز دل کا حالبے اختیار شمع کے آنسو ڈھلک پڑےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ملوں ہوں خاک جوں آئینہ منہ پرتری صورت مجھے آتی ہے جب یادTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکےمیرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیںپاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیںگر یار ہیں تو ہم ہیں اغیار ہیں تو ہم ہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)