Poetry

Poet
Meter
  1. داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوںرشک سے شمع کو جلاتا ہوںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  2. دلبر سے درد دل نہ کہوں ہائے کب تلکخاموش اس کے غم میں رہوں ہائے کب تلکTaban Abdul Hai (1715–1749)
  3. دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبحکیا کہوں میں کیا قیامت مجھ پہ تب لاتی ہے صبحTaban Abdul Hai (1715–1749)
  4. رویا نہ ہوں جہاں میں گریباں کو اپنے پھاڑایسا نہ کوئی دشت ہے ظالم نہ کوئی اجاڑTaban Abdul Hai (1715–1749)
  5. ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوںباراں ہو اور ہوا ہو سبزہ ہو اور ہم ہوںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  6. سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیںکیا بلبلوں نے دیکھو دھومیں مچائیاں ہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  7. شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کودن کو پھروں میں داد خواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کوTaban Abdul Hai (1715–1749)
  8. عزیزاں ستم گر نہ آیا مرے گھرنہ آیا مرے گھر عزیزاں ستم گرTaban Abdul Hai (1715–1749)
  9. عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہےمردہ دل وہ ہوتا ہے جو کہ شیح فانی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  10. غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیںچاہنے والے کو ہوتا بھی ہے آرام کہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  11. غیر کے ہاتھ میں اس شوخ کا دامان ہے آجمیں ہوں اور ہاتھ مرا اور یہ گریبان ہے آجTaban Abdul Hai (1715–1749)
  12. قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہےتصور بھی چمن کا ہم کو بس ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  13. کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرحساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے دیوانے کی طرحTaban Abdul Hai (1715–1749)
  14. کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہےکوئی زمانہ میں آرام سے رہا بھی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  15. کسی گل میں نہیں پانے کی تو بوئے وفا ہرگزعبث اپنا دل اے بلبل چمن میں مت لگا ہرگزTaban Abdul Hai (1715–1749)
  16. کعبہ ہے اگر شیخ کا مسجود خلائقہر بت ہے مرے دیر کا معبود خلائقTaban Abdul Hai (1715–1749)
  17. کھوتا ہی نہیں ہے ہوس مطعم و ملبسیہ نفس ہوس ناک و بد آموز و مہوسTaban Abdul Hai (1715–1749)
  18. کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشیہم کو رہنے ہی نہیں دیتا ہے ہرگز غم خوشیTaban Abdul Hai (1715–1749)
  19. کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپناہوا معلوم یوں شاید کیا کم ان نے پیار اپناTaban Abdul Hai (1715–1749)
  20. لڑکا جو خوبرو ہے سو مجھ سے بچا نہیںوہ کون ہے کہ جس سے میں یارو ملا نہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  21. مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہےکروں ترک دنیا تو ہمت نہیں ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  22. مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہےکہ ہر جلوے میں اس کے کیا کہوں اور ہی جھمکا ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  23. مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاںکرتا ہے میرے قتل کو تو کیوں شتابیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  24. میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویاراتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  25. نمکیں حرف ہے مرا یہ فصیحکل شئ من الملیح ملیحTaban Abdul Hai (1715–1749)
  26. نہ کوئی دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپناسناؤں کس کو غم اپنا الم اپنا فغاں اپناTaban Abdul Hai (1715–1749)
  27. نہ مرے پاس عزت رمضاںنہ کبھو کی عبادت رمضاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  28. نہیں تم مانتے میرا کہا جیکبھی تو ہم بھی سمجھیں گے بھلا جیTaban Abdul Hai (1715–1749)
  29. ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبتطائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبتTaban Abdul Hai (1715–1749)
  30. ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کےستم گر بے مروت بے وفا بے رحم اچپل کےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  31. ہے آرزو یہ جی میں اس کی گلی میں جاویںاور خاک اپنے سر پر من مانتی اڑاویںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  32. یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرحمنتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرحTaban Abdul Hai (1715–1749)
  33. یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔتو پھر اس سے جدا نہ ہوں تاباںؔTaban Abdul Hai (1715–1749)
  34. یاں تلک کے ہے ترے ہجر میں فریاد کہ بسنہ ہوا تو بھی کبھی ہائے یہ ارشاد کہ بسTaban Abdul Hai (1715–1749)
  35. ان بتوں کو تو مرے ساتھ محبت ہوتیکاش بنتا میں برہمن ہی مسلماں کے عوضTaban Abdul Hai (1715–1749)
  36. تو کون ہے اے واعظ جو مجھ کو ڈراتا ہےمیں کی بھی ہیں تو کی ہیں اللہ کی تقصیریںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  37. حرم کو چھوڑ رہوں کیوں نہ بت کدے میں شیخکہ یاں ہر ایک کو ہے مرتبہ خدائی کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  38. خدا دیوے اگر قدرت مجھے تو ضد ہے زاہد کیجہاں تک مسجدیں ہیں میں بناؤں توڑ بت خانہTaban Abdul Hai (1715–1749)
  39. دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔکیا مرے ہجر میں جیتا ہے وہ غم ناک ہنوزTaban Abdul Hai (1715–1749)
  40. زاہد ترا تو دین سراسر فریب ہےرشتے سے تیرے سبحہ کے زنار ہی بھلاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  41. صحبت شیخ میں تو رات کو جایا مت کروہ سکھا دے گا تجھے جان نماز معکوسTaban Abdul Hai (1715–1749)
  42. کرتا ہے گر تو بت شکنی تو سمجھ کے کرشاید کہ ان کے پردے میں زاہد خدا بھی ہوTaban Abdul Hai (1715–1749)
  43. کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیںہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  44. لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کربیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کرTaban Abdul Hai (1715–1749)
  45. محفل کے بیچ سن کے مرے سوز دل کا حالبے اختیار شمع کے آنسو ڈھلک پڑےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  46. ملوں ہوں خاک جوں آئینہ منہ پرتری صورت مجھے آتی ہے جب یادTaban Abdul Hai (1715–1749)
  47. ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکےمیرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  48. اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  49. ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیںپاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  50. باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیںگر یار ہیں تو ہم ہیں اغیار ہیں تو ہم ہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)