دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔ

Taban Abdul Hai (1715–1749)

دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔ

کیا مرے ہجر میں جیتا ہے وہ غم ناک ہنوز