Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Abtar
ہزج مثمّن اخرب مکفوف ابتر- اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیںمنھ خون جگر سے دم بدم دھوتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داریاٹھ جائیں گے یہ بیٹھے ہوئے یک باریMir Taqi Mir (1723–1810)
- آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہےاشکوں کی ردا منہ پہ پڑی رہتی ہےMir Anees (1803–1874)
- تھا آدم خاکی غضب بے زنہارپر موت کے ہاتھوں سے ہوا ہے ناچارQalaq Meerathi (1835–1880)
- جاہل کی ہے میراث قلقؔ تخت و تاجکامل ہے سدا بے ہنروں کا محتاجQalaq Meerathi (1835–1880)
- دروازے پہ تیرے ہی مروں گا یا ربکیا بیم جہنم نہ ڈروں گا یا ربQalaq Meerathi (1835–1880)
- دنیا ہے عجب بو قلموں ضد آموزہر شکل موافق ہے مخالف اندوزQalaq Meerathi (1835–1880)
- کس طرح سے گریہ کو نہ ہو طغیانیہے کشتیٔ دریائے کرم طوفانیQalaq Meerathi (1835–1880)
- مسجد کو دیا چھوڑ ریا کی خاطرکعبے نہیں جاتا تو حیا کی خاطرQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہے دوستیٔ آل عبا رونے سےہے درجۂ والاۓ ولا رونے سےQalaq Meerathi (1835–1880)
- گدائی کی ترغیبAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- احوال سے کہا کسی نے اے نیک شعارتو ایک کو دو دیکھ رہا ہے ناچارIsmail Meeruthi (1844–1917)
- فطرت کے مطابق اگر انساں لے کامحیوان تو حیوان جمادات ہوں رامIsmail Meeruthi (1844–1917)
- کس طور سے کس طرح سے کیوں کر پایادل نظر کیا سراغ دلبر پایاIsmail Meeruthi (1844–1917)
- جس وقت کا ڈر تھا وہ شباب آ پہنچاہنگام رحیل و پا تراب آ پہنچاShad Azimabadi (1846–1927)
- ہادی ہوں میں کام ہے ہدایت میرادم بھرتے ہیں ارباب بلاغت میراShad Azimabadi (1846–1927)
- کیا کہیے کہ بیداد ہے تیری بیدادطوفان محبت کی ہے زد میں فریادFani Badayuni (1879–1941)
- دیوانۂ عشق کو نصیحت توبہYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- ناداں کوئی اک روز جو جنگل میں گیااخروٹ کے باغات کا منظر دیکھاAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائےیا پھر ہمیں منزل کی بشارت دی جائےSaleem Kausar
- باپو نے ہر انسان کو انساں سمجھابہبودئ ہر فرد کو ایماں سمجھاCharkh Chinioti
- آفاق سے استاد یگانہ اٹھامضموں کے جواہر کا خزانہ اٹھامرزا سلامت علی دبیر
- اس بزم کو جنت سے جو خوش پاتے ہیںرضواں لیے گلدستہ نور آتے ہیںمرزا سلامت علی دبیر
- اس بزم میں ارباب شعور آئے ہیںیہ شیعہ ہیں یا آیۂ نور آئے ہیںمرزا سلامت علی دبیر
- فرمان علی لوح و قلم تک پہنچافضل ان کا ہر ایک غم میں ہم تک پہنچامرزا سلامت علی دبیر
- دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافلبہتر نہیں اوقات کا کھونا غافلسید محمد عبد الغفور شہباز
- جب سے مری تقدیر کا ڈوبا سورجاس روز سے اب تک نہیں دیکھا سورجLaiq Aajiz