Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Abtar

ہزج مثمّن اخرب مکفوف ابتر
Poet
Meter
Clear
  1. اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیںمنھ خون جگر سے دم بدم دھوتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  2. کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داریاٹھ جائیں گے یہ بیٹھے ہوئے یک باریMir Taqi Mir (1723–1810)
  3. آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہےاشکوں کی ردا منہ پہ پڑی رہتی ہےMir Anees (1803–1874)
  4. تھا آدم خاکی غضب بے زنہارپر موت کے ہاتھوں سے ہوا ہے ناچارQalaq Meerathi (1835–1880)
  5. جاہل کی ہے میراث قلقؔ تخت و تاجکامل ہے سدا بے ہنروں کا محتاجQalaq Meerathi (1835–1880)
  6. دروازے پہ تیرے ہی مروں گا یا ربکیا بیم جہنم نہ ڈروں گا یا ربQalaq Meerathi (1835–1880)
  7. دنیا ہے عجب بو قلموں ضد آموزہر شکل موافق ہے مخالف اندوزQalaq Meerathi (1835–1880)
  8. کس طرح سے گریہ کو نہ ہو طغیانیہے کشتیٔ دریائے کرم طوفانیQalaq Meerathi (1835–1880)
  9. مسجد کو دیا چھوڑ ریا کی خاطرکعبے نہیں جاتا تو حیا کی خاطرQalaq Meerathi (1835–1880)
  10. ہے دوستیٔ آل عبا رونے سےہے درجۂ والاۓ ولا رونے سےQalaq Meerathi (1835–1880)
  11. گدائی کی ترغیبAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  12. احوال سے کہا کسی نے اے نیک شعارتو ایک کو دو دیکھ رہا ہے ناچارIsmail Meeruthi (1844–1917)
  13. فطرت کے مطابق اگر انساں لے کامحیوان تو حیوان جمادات ہوں رامIsmail Meeruthi (1844–1917)
  14. کس طور سے کس طرح سے کیوں کر پایادل نظر کیا سراغ دلبر پایاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  15. جس وقت کا ڈر تھا وہ شباب آ پہنچاہنگام رحیل و پا تراب آ پہنچاShad Azimabadi (1846–1927)
  16. ہادی ہوں میں کام ہے ہدایت میرادم بھرتے ہیں ارباب بلاغت میراShad Azimabadi (1846–1927)
  17. کیا کہیے کہ بیداد ہے تیری بیدادطوفان محبت کی ہے زد میں فریادFani Badayuni (1879–1941)
  18. دیوانۂ عشق کو نصیحت توبہYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  19. ناداں کوئی اک روز جو جنگل میں گیااخروٹ کے باغات کا منظر دیکھاAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  20. اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائےیا پھر ہمیں منزل کی بشارت دی جائےSaleem Kausar
  21. باپو نے ہر انسان کو انساں سمجھابہبودئ ہر فرد کو ایماں سمجھاCharkh Chinioti
  22. آفاق سے استاد یگانہ اٹھامضموں کے جواہر کا خزانہ اٹھامرزا سلامت علی دبیر
  23. اس بزم کو جنت سے جو خوش پاتے ہیںرضواں لیے گلدستہ نور آتے ہیںمرزا سلامت علی دبیر
  24. اس بزم میں ارباب شعور آئے ہیںیہ شیعہ ہیں یا آیۂ نور آئے ہیںمرزا سلامت علی دبیر
  25. فرمان علی لوح و قلم تک پہنچافضل ان کا ہر ایک غم میں ہم تک پہنچامرزا سلامت علی دبیر
  26. دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافلبہتر نہیں اوقات کا کھونا غافلسید محمد عبد الغفور شہباز
  27. جب سے مری تقدیر کا ڈوبا سورجاس روز سے اب تک نہیں دیکھا سورجLaiq Aajiz