کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داری

Mir Taqi Mir (1723–1810)

کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داری

اٹھ جائیں گے یہ بیٹھے ہوئے یک باری

کیا آنکھوں کو کھولا ہے تنک کانوں کو کھول

افسانہ ہے پل مارتے مجلس ساری