اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیں
Mir Taqi Mir (1723–1810)اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیں
منھ خون جگر سے دم بدم دھوتے ہیں
یعنی کہ ہر اک جاے پہ جوں ابر بہار
عالم عالم جہاں جہاں روتے ہیں
اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیں
منھ خون جگر سے دم بدم دھوتے ہیں
یعنی کہ ہر اک جاے پہ جوں ابر بہار
عالم عالم جہاں جہاں روتے ہیں