Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- دنیا میں کوئی تجھ سا بشر ہو نہیں سکتایوں کوئی کہے لاکھ مگر ہو نہیں سکتاFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- یوں کہنے کو خنجر کو بھی خنجر ہی کہیں گےپر کیا تیرے ابرو کے برابر ہی کہیں گےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سےدل توڑتے ہو کیوں مرا پیماں شکنی سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- دل جائے مگر دھیان بتوں کا نہیں جاتاسر جائے مگر عشق کا سودا نہیں جاتاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیراکہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیراChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- نورجہاںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہےاللہ رے تری یاد کہ کچھ یاد نہیں ہےFani Badayuni (1879–1941)
- بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گیمنہ پھیر لیا ہم نے تو دنیا نہ رہے گیFani Badayuni (1879–1941)
- جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہےاب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہےFani Badayuni (1879–1941)
- کچھ بس ہی نہ تھا ورنہ یہ الزام نہ لیتےہم تجھ سے چھپا کر بھی ترا نام نہ لیتےFani Badayuni (1879–1941)
- کچھ کم تو ہوا رنج فراوان تمناآغاز جنوں گو نہیں پایان تمناFani Badayuni (1879–1941)
- ہو کاش وفا وعدۂ فردائے قیامتآئے گی مگر دیکھیے کب آئے قیامتFani Badayuni (1879–1941)
- یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتااس بزم میں ہشیار ہوا بھی نہیں جاتاFani Badayuni (1879–1941)
- یوں نظم جہاں درہم و برہم نہ ہوا تھاایسا بھی ترے حسن کا عالم نہ ہوا تھاFani Badayuni (1879–1941)
- کچھ ایسی پلا دے مجھے اے پیر مغاں آجقینچی کی طرح چلنے لگی میری زباں آجAagha Akbarabadi (b. 1879)
- دل لینے کے انداز بھی کچھ سیکھ گیا ہوںصحبت میں حسینوں کی بہت روز رہا ہوںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- اے اہل وفا خاک بنے کام تمہاراآغاز بتا دیتا ہے انجام تمہاراWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گییہ چھیڑ جو چلتی ہے سو چلتی ہی رہے گیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نےاس جنس کو بازار میں پوچھا نہ کسی نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہےخود ہی اثر نالہ سے دل تھام لیا ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیںاس نرگس بیمار کے بیمار بہت ہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہےکیوں لب پہ مرے زمزمۂ صل علیٰ ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائےیہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہےکیا ہے جو یہ عالم خس و خاشاک نہیں ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- آتش خاموشAziz Lakhnavi (1882–1935)
- جب تک خلش درد خدا داد رہے گیدنیا دل ناشاد کی آباد رہے گیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- جو دل نہیں رکھتا کوئی مشکل نہیں رکھتامشکل نہیں رکھتا کوئی جو دل نہیں رکھتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- دنیا کا چلن ترک کیا بھی نہیں جاتااس جادۂ باطل سے پھرا بھی نہیں جاتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھیاو دشمن جاں دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہےحیرت بھی یہ حیرت ہے کہ کیا جانیے کیا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہےاے شعبدہ پرداز یہ کیا طرز نظر ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھاسنتے ہیں بہار آئی گلستاں نہیں دیکھاAsghar Gondvi (1884–1936)
- سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہوتو اے بت کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہوQamar Jalalvi (1887–1968)
- اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہہاں کوئی نظر رحمت سلطان مدینہJigar Moradabadi (1890–1960)
- اللہ رے اس گلشن ایجاد کا عالمجو صید کا عالم وہی صیاد کا عالمJigar Moradabadi (1890–1960)
- دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاداب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یادJigar Moradabadi (1890–1960)
- سینے میں اگر ہو دل بیدار محبتہر سانس ہے پیغمبر اسرار محبتJigar Moradabadi (1890–1960)
- کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیاجس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- نرگس مستانہJigar Moradabadi (1890–1960)
- قحط بنگالJigar Moradabadi (1890–1960)
- انسان کے دل کو ہی کوئی ساز نہیں ہےکس پردہ میں ورنہ تری آواز نہیں ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- جو کچھ تھا مقدر میں گوارا تو نہیں تھادر پردہ کہیں ان کا اشارا تو نہیں تھاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیںگل جتنے ہیں اس باغ میں مرجھائے ہوئے ہیںKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- کر کے دل نالاں سے مرے ساز کسی نےدی ہے مجھے پردے سے یہ آواز کسی نےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہےویفر کی جگہ آنکھ لفافے پہ لگی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہمبرسات کے موسم میں بھی پھولے نہ پھلے ہمShad Lakhnavi (d. 1892)
- اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سےعاشق ہیں ہم اس نرگس رعنا کے جبھی سےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہےہاں دھیان سے سننا یہ صدی بول رہی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہےہر نغمہ سر بزم طرب اور ہی کچھ ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ موت و عدم کون و مکاں اور ہی کچھ ہےسن لے کہ مرا نام و نشاں اور ہی کچھ ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)