Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. دنیا میں کوئی تجھ سا بشر ہو نہیں سکتایوں کوئی کہے لاکھ مگر ہو نہیں سکتاFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  2. یوں کہنے کو خنجر کو بھی خنجر ہی کہیں گےپر کیا تیرے ابرو کے برابر ہی کہیں گےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  3. اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سےدل توڑتے ہو کیوں مرا پیماں شکنی سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  4. دل جائے مگر دھیان بتوں کا نہیں جاتاسر جائے مگر عشق کا سودا نہیں جاتاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  5. کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیراکہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیراChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  6. نورجہاںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  7. اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہےاللہ رے تری یاد کہ کچھ یاد نہیں ہےFani Badayuni (1879–1941)
  8. بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گیمنہ پھیر لیا ہم نے تو دنیا نہ رہے گیFani Badayuni (1879–1941)
  9. جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہےاب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہےFani Badayuni (1879–1941)
  10. کچھ بس ہی نہ تھا ورنہ یہ الزام نہ لیتےہم تجھ سے چھپا کر بھی ترا نام نہ لیتےFani Badayuni (1879–1941)
  11. کچھ کم تو ہوا رنج فراوان تمناآغاز جنوں گو نہیں پایان تمناFani Badayuni (1879–1941)
  12. ہو کاش وفا وعدۂ فردائے قیامتآئے گی مگر دیکھیے کب آئے قیامتFani Badayuni (1879–1941)
  13. یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتااس بزم میں ہشیار ہوا بھی نہیں جاتاFani Badayuni (1879–1941)
  14. یوں نظم جہاں درہم و برہم نہ ہوا تھاایسا بھی ترے حسن کا عالم نہ ہوا تھاFani Badayuni (1879–1941)
  15. کچھ ایسی پلا دے مجھے اے پیر مغاں آجقینچی کی طرح چلنے لگی میری زباں آجAagha Akbarabadi (b. 1879)
  16. دل لینے کے انداز بھی کچھ سیکھ گیا ہوںصحبت میں حسینوں کی بہت روز رہا ہوںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  17. اے اہل وفا خاک بنے کام تمہاراآغاز بتا دیتا ہے انجام تمہاراWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  18. جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گییہ چھیڑ جو چلتی ہے سو چلتی ہی رہے گیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  19. شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نےاس جنس کو بازار میں پوچھا نہ کسی نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  20. نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہےخود ہی اثر نالہ سے دل تھام لیا ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  21. تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیںاس نرگس بیمار کے بیمار بہت ہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  22. کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہےکیوں لب پہ مرے زمزمۂ صل علیٰ ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  23. دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائےیہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  24. انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہےکیا ہے جو یہ عالم خس و خاشاک نہیں ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  25. آتش خاموشAziz Lakhnavi (1882–1935)
  26. جب تک خلش درد خدا داد رہے گیدنیا دل ناشاد کی آباد رہے گیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  27. جو دل نہیں رکھتا کوئی مشکل نہیں رکھتامشکل نہیں رکھتا کوئی جو دل نہیں رکھتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  28. دنیا کا چلن ترک کیا بھی نہیں جاتااس جادۂ باطل سے پھرا بھی نہیں جاتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  29. محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھیاو دشمن جاں دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  30. اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہےحیرت بھی یہ حیرت ہے کہ کیا جانیے کیا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  31. جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہےاے شعبدہ پرداز یہ کیا طرز نظر ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  32. مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھاسنتے ہیں بہار آئی گلستاں نہیں دیکھاAsghar Gondvi (1884–1936)
  33. سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہوتو اے بت کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہوQamar Jalalvi (1887–1968)
  34. اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہہاں کوئی نظر رحمت سلطان مدینہJigar Moradabadi (1890–1960)
  35. اللہ رے اس گلشن ایجاد کا عالمجو صید کا عالم وہی صیاد کا عالمJigar Moradabadi (1890–1960)
  36. دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاداب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یادJigar Moradabadi (1890–1960)
  37. سینے میں اگر ہو دل بیدار محبتہر سانس ہے پیغمبر اسرار محبتJigar Moradabadi (1890–1960)
  38. کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیاجس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  39. نرگس مستانہJigar Moradabadi (1890–1960)
  40. قحط بنگالJigar Moradabadi (1890–1960)
  41. انسان کے دل کو ہی کوئی ساز نہیں ہےکس پردہ میں ورنہ تری آواز نہیں ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  42. جو کچھ تھا مقدر میں گوارا تو نہیں تھادر پردہ کہیں ان کا اشارا تو نہیں تھاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  43. سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیںگل جتنے ہیں اس باغ میں مرجھائے ہوئے ہیںKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  44. کر کے دل نالاں سے مرے ساز کسی نےدی ہے مجھے پردے سے یہ آواز کسی نےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  45. خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہےویفر کی جگہ آنکھ لفافے پہ لگی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  46. جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہمبرسات کے موسم میں بھی پھولے نہ پھلے ہمShad Lakhnavi (d. 1892)
  47. اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سےعاشق ہیں ہم اس نرگس رعنا کے جبھی سےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  48. ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہےہاں دھیان سے سننا یہ صدی بول رہی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  49. ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہےہر نغمہ سر بزم طرب اور ہی کچھ ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  50. یہ موت و عدم کون و مکاں اور ہی کچھ ہےسن لے کہ مرا نام و نشاں اور ہی کچھ ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)