Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب تو وہ شخص زمانے میں اثر رکھتا ہےدس سے جو بیس بنانے کا ہنر رکھتا ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
  2. اجالوں کا اگر دشمن نہیں ہےاندھیروں سے بھی وہ بد ظن نہیں ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
  3. پہن کر دست و پا میں آہنی زیور نکلتے ہیںترے وحشی بہ سوئے دار بن ٹھن کر نکلتے ہیںZafar Siddiqui (b. 1954)
  4. تشنگی میں کوئی قطرہ نہ میسر آیامر گئی پیاس تو حصے میں سمندر آیاZafar Siddiqui (b. 1954)
  5. تمام شہر میں کوئی بھی روشناس نہ تھاخطا یہی تھی کہ لہجہ پر التماس نہ تھاZafar Siddiqui (b. 1954)
  6. تو مطمئن ہے تو آخر یہ حال کیسا ہےزبان چپ ہے نظر میں سوال کیسا ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
  7. جس جگہ رہنا سمندر رہنااور پیاسوں کو میسر رہناZafar Siddiqui (b. 1954)
  8. جس طرف جائیے ملتے ہیں عداوت والےاٹھ گئے دنیا سے کیا لوگ محبت والےZafar Siddiqui (b. 1954)
  9. زہر ساعت ہی پئیں جسم تہ خاک تو ہوسرد آنکھوں میں کوئی خواہش ناپاک تو ہوZafar Siddiqui (b. 1954)
  10. شاید ایسا شخص ہمارا پورا خواب کرےپتھر کو جو موم بنائے آہن آب کرےZafar Siddiqui (b. 1954)
  11. عمر بھر کے خواب کا حاصل سمجھ بیٹھے ہیں لوگسایۂ دیوار کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں لوگZafar Siddiqui (b. 1954)
  12. ہاتھ آیا آسماں تو زمیں کا نہیں رہاپھر یہ ہوا وہ شخص کہیں کا نہیں رہاZafar Siddiqui (b. 1954)