Poetry
- اب تو وہ شخص زمانے میں اثر رکھتا ہےدس سے جو بیس بنانے کا ہنر رکھتا ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
- اجالوں کا اگر دشمن نہیں ہےاندھیروں سے بھی وہ بد ظن نہیں ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
- پہن کر دست و پا میں آہنی زیور نکلتے ہیںترے وحشی بہ سوئے دار بن ٹھن کر نکلتے ہیںZafar Siddiqui (b. 1954)
- تشنگی میں کوئی قطرہ نہ میسر آیامر گئی پیاس تو حصے میں سمندر آیاZafar Siddiqui (b. 1954)
- تمام شہر میں کوئی بھی روشناس نہ تھاخطا یہی تھی کہ لہجہ پر التماس نہ تھاZafar Siddiqui (b. 1954)
- تو مطمئن ہے تو آخر یہ حال کیسا ہےزبان چپ ہے نظر میں سوال کیسا ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
- جس جگہ رہنا سمندر رہنااور پیاسوں کو میسر رہناZafar Siddiqui (b. 1954)
- جس طرف جائیے ملتے ہیں عداوت والےاٹھ گئے دنیا سے کیا لوگ محبت والےZafar Siddiqui (b. 1954)
- زہر ساعت ہی پئیں جسم تہ خاک تو ہوسرد آنکھوں میں کوئی خواہش ناپاک تو ہوZafar Siddiqui (b. 1954)
- شاید ایسا شخص ہمارا پورا خواب کرےپتھر کو جو موم بنائے آہن آب کرےZafar Siddiqui (b. 1954)
- عمر بھر کے خواب کا حاصل سمجھ بیٹھے ہیں لوگسایۂ دیوار کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں لوگZafar Siddiqui (b. 1954)
- ہاتھ آیا آسماں تو زمیں کا نہیں رہاپھر یہ ہوا وہ شخص کہیں کا نہیں رہاZafar Siddiqui (b. 1954)