Poetry
- پھرے ہیں دھن میں تری ہم ادھر ادھر تنہاتجھے تلاش کیا ہے نگر نگر تنہاZafar Akbarabadi
- تھی میرے دل کی پیاس تپش دشت کی نہ تھیبجھتی سمندروں سے یہ وہ تشنگی نہ تھیZafar Akbarabadi
- دنیا مزاج دان و مزاج آشنا نہ تھیدنیا کے پاس زہر بہت تھا دوا نہ تھیZafar Akbarabadi
- شریک حال جب ناکامیٔ تدبیر ہوتی ہےتو پھر وحشت اثر ہر خواب کی تعبیر ہوتی ہےZafar Akbarabadi
- کبھی اسے تو کبھی خود کو دیکھتے رہنااسی مدار میں دن رات گھومتے رہناZafar Akbarabadi
- کچھ ایسے جذبۂ تحقیر سے زمانہ ملاکہ اس سے اپنا یہ خوددار دل ذرا نہ ملاZafar Akbarabadi
- کسی کی پرشش غم بار ہو گئی ہوگیتمام دکھ ہمہ آزار ہو گئی ہوگیZafar Akbarabadi
- مائل بہ دوستی وہ کدھر ہے کدھر نہیںاللہ جانتا ہے مجھے کچھ خبر نہیںZafar Akbarabadi
- مجھے خدشہ ہے اپنی چشم تر سےکہیں پانی گزر جائے نہ سر سےZafar Akbarabadi
- ہر قدم پر اک نیا دکھ خیر خواہوں سے ملاکب ہمیں کوئی تحفظ ان پناہوں سے ملاZafar Akbarabadi
- ہزار صبح نے کرنوں کے جال پھیلائےمگر سمٹ نہ سکے رات کے گھنے سائےZafar Akbarabadi
- ہم اس کے دھیان میں آئیں گے دھیان میں بھی نہ تھایقیں کا ذکر تو کیا ہے گمان میں بھی نہ تھاZafar Akbarabadi
- ہے تو کوشش یہی دل دشت تمنا نہ بنےپھر بھی بنتا ہے جو ویرانہ تو ویرانہ بنےZafar Akbarabadi