Poetry
- اگر سب سچ کے متوالے ہوئے ہیںزباں پر قفل کیوں ڈالے ہوئے ہیںYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- حصول رزق کے ارماں نکالتے گزریحیات ریت سے سکے ہی ڈھالتے گزریYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- درون حلقۂ زنجیر ہوں میںشکستہ خواب کی تعبیر ہوں میںYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- دلوں میں درد ہی اتنا کشید رکھا ہےکہ آنکھ آنکھ نے آنسو کشید رکھا ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- روبرو بت کے دعا کی بھول ہو جائے تو پھراور پھر وہ ہی دعا مقبول ہو جائے تو پھرYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- کبھی روزنوں سے پکارنا کبھی در کے چاک سے دیکھناسر بزم اس کا کبھی مجھے بڑے انہماک سے دیکھناYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- گردش مقدر کا سلسلہ جو چل جائےدوسرا عتاب آئے اک بلا جو ٹل جائےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- مرے چاروں طرف ایک آہنی دیوار کیوں ہےاگر سچا ہوں میں سچ کا مقدر ہار کیوں ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیںکہ راہبر تو کوئی کارواں میں تھا ہی نہیںYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہےجسے بھی چاہا بہت کافرانہ چاہا ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- میرے چاروں طرفدائرہ دائرہYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- نیند پلکوں کے سائباں میں نہیںطائر خواب کر گیا پروازYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- وطن کی دھرتی سے دورجب وطن کے مارےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- ہجوم رنج و المکئی پیکروں میں ڈھل کر چہار جانب پہ چھا رہا ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- ہر دن میں وعدہ کرتا ہوںشام سے پہلے گھر آؤں گاYaqoob Tasawwur (b. 1945)