Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اگر سب سچ کے متوالے ہوئے ہیںزباں پر قفل کیوں ڈالے ہوئے ہیںYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  2. حصول رزق کے ارماں نکالتے گزریحیات ریت سے سکے ہی ڈھالتے گزریYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  3. درون حلقۂ زنجیر ہوں میںشکستہ خواب کی تعبیر ہوں میںYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  4. دلوں میں درد ہی اتنا کشید رکھا ہےکہ آنکھ آنکھ نے آنسو کشید رکھا ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  5. روبرو بت کے دعا کی بھول ہو جائے تو پھراور پھر وہ ہی دعا مقبول ہو جائے تو پھرYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  6. کبھی روزنوں سے پکارنا کبھی در کے چاک سے دیکھناسر بزم اس کا کبھی مجھے بڑے انہماک سے دیکھناYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  7. گردش مقدر کا سلسلہ جو چل جائےدوسرا عتاب آئے اک بلا جو ٹل جائےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  8. مرے چاروں طرف ایک آہنی دیوار کیوں ہےاگر سچا ہوں میں سچ کا مقدر ہار کیوں ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  9. مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیںکہ راہبر تو کوئی کارواں میں تھا ہی نہیںYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  10. ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہےجسے بھی چاہا بہت کافرانہ چاہا ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  11. میرے چاروں طرفدائرہ دائرہYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  12. نیند پلکوں کے سائباں میں نہیںطائر خواب کر گیا پروازYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  13. وطن کی دھرتی سے دورجب وطن کے مارےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  14. ہجوم رنج و المکئی پیکروں میں ڈھل کر چہار جانب پہ چھا رہا ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  15. ہر دن میں وعدہ کرتا ہوںشام سے پہلے گھر آؤں گاYaqoob Tasawwur (b. 1945)