Poetry
- آہ و گریہ میں کہاں تاثیر ہےضبط میں ہی اشکوں کی توقیر ہےVibha Jain 'Khwaab'
- اب درد دل سے کہہ دو کہ چھپ کر وہیں رہےآنکھوں کے آنسوؤں سے مراسم نہیں رہےVibha Jain 'Khwaab'
- اسے ضرور کوئی کام آ گیا ہوگاوگرنہ کوئی کسی کو یوں بھولتا ہوگاVibha Jain 'Khwaab'
- بنا بولے ہی سب کچھ جان جائےوہ کاش آنکھوں کا دکھ پہچان جائےVibha Jain 'Khwaab'
- زرد چہرے پہ خوش لباس آنکھیںخوب ہنستی ہیں محو یاس آنکھیںVibha Jain 'Khwaab'
- زہر سے زہر کٹے کانٹے سے کرچی نکلےدے نیا درد کہ یہ ٹیس پرانی نکلےVibha Jain 'Khwaab'
- شاید تجھے سکون ملے دیکھ کر تو دیکھہم ختم ہو رہے ہیں ہمیں اک نظر تو دیکھVibha Jain 'Khwaab'
- فلک پر چاند جلتا ہے ہم اس کے ساتھ جلتے ہیںکسی کی یاد میں ہم دونوں ساری رات جلتے ہیںVibha Jain 'Khwaab'
- کبھی ہلکا کبھی گہرا ہماری آنکھ کا کاجلہمارے غم سے وابستہ ہماری آنکھ کا کاجلVibha Jain 'Khwaab'
- لیکن تجھ پر کھلتا کب ہےمیری چپ کا جو مطلب ہےVibha Jain 'Khwaab'
- مسافروں کی طرح رہ گزر میں رہتا ہےیہ راستہ بھی مسلسل سفر میں رہتا ہےVibha Jain 'Khwaab'
- ہر شے کی بس تب تک قیمت ہوتی ہےجب تک آپ کو اس کی ضرورت ہوتی ہےVibha Jain 'Khwaab'